بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

محرم عورت کے برابر میں پڑھی گئی نمازوں کا حکم


سوال

 کرونا وائرس ( covid19)کے زمانہ میں ہم گھر والے ایک ساتھ گھر میں جماعت سے نماز پڑھتے تھے ،میرے بڑے بھائی  امام ہوتے تھے اور میرے والد صاحب اور ماں صف باندھ کر کھڑے ہوتے تھے، میری ماں ہمارے برابر کھڑی ہوتی تھی ،اس طرح ہم نے تقریبا دو مہینہ بہت نمازیں پڑھی، اب محاذات کے مسئلہ کا پتہ چلا کہ محرم عورت کے محاذات سے بھی نماز فاسد ہو جاتی ہے ،اب دریافت طلب امر يہ ہے کہ ہماری ان نمازوں کا کیا حکم ہے ؟ کیاہمیں ان نمازوں کی قضاء کرنی ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  محرم عورت کے دائیں ،بائیں  میں  کھڑے ہوکر جتنی بھی  نمازیں پڑھی گئی ہیں شرعاً ان کا اعادہ کرنا  لازم ہے ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"محاذاة المرأة الرجل مفسدة لصلاته ولها شرائط:

(منها) أن تكون المحاذية مشتهاةً تصلح للجماع ولا عبرة للسن وهو الأصح .... (ومنها) أن تكون الصلاة مطلقةً وهي التي لها ركوع وسجود.... (ومنها) أن تكون الصلاة مشتركةً تحريمةً وأداءً .... (ومنها) أن يكونا في مكان واحد...(ومنها) أن يكونا بلا حائل ... وأدنى الحائل قدر مؤخر الرحل وغلظه غلظ الأصبع والفرجة تقوم مقام الحائل وأدناه قدر ما يقوم فيه الرجل، كذا في التبيين. (ومنها) أن تكون ممن تصح منها الصلاة.... (ومنها) أن ينوي الإمام إمامتها أو إمامة النساء وقت الشروع ... (ومنها) أن تكون المحاذاة في ركن كامل.... (ومنها) أن تكون جهتهما متحدة ..... ثم المرأة الواحدة تفسد صلاة ثلاثة واحد عن يمينها وآخر عن يسارها وآخر خلفها ولا تفسد أكثر من ذلك. هكذا في التبيين.وعليه الفتوى. كذا في التتارخانية والمرأتان صلاة أربعة واحد عن يمينهما وآخر عن يسارهما واثنان خلفهما بحذائهما ،وإن كن ثلاثا أفسدت صلاة واحد عن يمينهن وآخر عن يسارهن وثلاثة خلفهن إلى آخر الصفوف وهذا جواب الظاهر. هكذا في التبيين".

(کتاب الصلاۃ،الباب الخامس فی الامامۃ،ج:1،ص:89،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101889

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں