بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

محکمہ ایکسائز میں پرائیویٹ افراد کا کام کرنا اور رجسٹریشن کے لیے لوگوں سے مقررہ فیس سے زائد رقم لینا


سوال

NB برادرز کے نام سے ہماری ایک پرائیویٹ کمپنی ہے، جو ایک سرکاری ادارہ (محکمہ ایکسائز ) جو پورے پاکستان میں گاڑیوں کے رجسٹریشن،ٹرانسفر اور ٹوکن بنانے کا کام کرتاہے ،ہماری کمپنی (NBبرادرز) اس محکمہ سے متعلق جتنے کام ہو ،وہ کرتی ہے ۔ہمارے پاس پورے پاکستان سے کام آتے  ہیں جو ہم کرکے لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔

محکمہ ایکسائز میں جو لوگ کام کے سلسلے میں آتے ہیں ،محکمہ ان کا کام مہینوں میں کرکے دیتا ہے ،ہماری کمپنی لوگوں کو طویل مدت اور لمبی لائن میں لگنے جیسی مشکلات سے بچنے کے لئے مطلوبہ فیس سے زائد رقم وصول کرکے کم عرصہ میں کرکے ان کے گھر پہنچانے کا انتظام کرتی ہے،مثلاایک گاڑی کے رجسٹریشن کی فیس جو محکمہ ایکسائز وصول کرتاہے وہ ستر ہزار روپے (70000) مقرر ہے،ہماری کمپنی گاڑی مالکان سے باہمی رضامندی سے مقررہ فیس زائد ایک لاکھ پچاسی ہزار (185000) روپے وصول کرتی ہے ،ان زائد پیسوں کے عوض ان کا کام بآسانی کرکے ان کے گھر پہنچادیتی ہےاور اپنے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات بھی ان پیسوں سے ادا کرتی ہے اور محکمہ کے مختلف دفاتر کو رقوم ادا کرتی ہے تاکہ کا م آسانی سے ہوسکے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا لوگوں کی سہولت کی خاطر باہمی رضامندی سے رجسٹریشن کی مقرر کردہ فیس سے زائد وصول کرنا اور ان زائد رقوم سے محکمہ کے دفاتر کے مختلف شعبہ جات کو ادائیگی کرکے ان سے بآسانی کام کروانا کہیں رشوت دینے کے زمرے میں تو نہیں آتا؟اگر ایسا کرنا رشوت ہے تو کیا اس کا اثر ان زائد رقوم پر جو کمپنی لوگوں سے وصول کرتی ہے اور جو رجسٹریشن کی مقررہ فیس ہے اس پر تو نہیں پڑے گا ؟ اور ان رقوم کا کیا حکم ہوگا؟

نوٹ:MB برادرز رقم پرائیویٹ افراد کے ذریعے کمپنی کو دیتی ہے مثلا MBبرادرز اور کمپنی والوں کے درمیان معاملہ کرنے  کےلئے پرائیویٹ افراد موجود ہیں جو یہ سارا  کام انجام دیتے ہیں، اور یہ پرائیویٹ لوگ ایکسائز کمپنی کے ہی کارندے ہیں اور کبھی کبھار بلاواسطہ کمپنی کے ملازمین ہی کو رقم دی جاتی ہیں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں NBبرادرزلوگوں کوجوسہولت دیتی ہے تو اُس کے عوض اُن سے باہمی رضامندی سے "محکمہ ایکسائز"کی مقرر کردہ فیس سے زائد رقم وصول کرناجائز ہے،البتہ  NBبرادرز "محکمہ ایکسائز"کے کارندوں کوجورقم دے کراُن سے اپناکام جلدی کرواتی ہے،تو یہ رشوت کے زمرے  میں آتاہے ،ایسا کرناجائز نہیں۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لعنة الله على ‌الراشي والمرتشي."

ترجمہ :"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے"

(‌‌أبواب الأحكام، باب التغليظ في الحيف والرشوة، 411/3، ط: دار الرسالة العالمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں