بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ماہد نام رکھنا


سوال

میں اپنے بیٹے کا نام ماھد رکھنا چاہتا ہوں ،برائےمہربانی یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟ نیز یہ نام کیسےلکھا جائے گا ۔ ماھد، ماہد یا ماحد

جواب

"ماھد" مھد سے اسم فاعل کا صیغہ ہے ،جس کا معنی ہے : بچھانے والا ،برابر کرنے والانیز قران مجید میں بھی بچھانے والے کے معنی میں وارد ہوا ہے :

"وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ ."﴿الذاريات: ٤٨﴾

ترجمہ:" اور ہم نے زمین کو فرش(کے طور پر) بنایا  سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں"( بیان القران)

جب کہ" ماحد" بے معنی لفظ ہے ،لہذا سائل کے لیے اپنے بیٹۓ کا ناماھد رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس سے بھی بہتر معنے والے نام منتخب کیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے نیز اردو رسم الخط کی رو سے "ماہد" لکھا جائے گا، اچھے ناموں کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ ملاحظہ ہو  :اسلامی نام۔

الدر المنثور في التفسير بالمأثور میں ہے:

"وأخرج ابن جرير وابن المنذر عن ابن جريج رضي الله عنه في قوله {وإنا لموسعون} قال: لنخلق سماء مثلها وفي قوله {والأرض فرشناها فنعم‌الماهدون} قال: الفارشون."

(سورة الذاريات،الآيات 41 - 53،ج7،ص223،ط:دار الفكر)

الصحاح تاج اللغة میں ہے :

"‌‌[مهد] المهد: مهد الصبى. والمهاد: الفراش. وقد مهدت الفراش مهدا: بسطته، ووطأته. وتمهيد الامور: تسويتها وإصلاحها: وتمهيد العذر: بسطه وقبوله. وامتهاد السنام: انبساطه وارتفاعه."

(‌‌باب الدال،‌‌ فصل الميم، ج2، ص541، ط:دار العلم للملايين)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409101293

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں