بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ماہِ رمضان میں مسجد میں نمازِ فجر سے پہلے بیان کا سلسلہ قائم کرنا


سوال

ہم مسجد میں رمضان المبارک کے پہلے روزے سے اختتامِ رمضان تک نمازِ فجر سے پہلے بیان کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں اور 29 رمضان المبارک کو بیان کے اختتام پر نمازِ فجر سے پہلے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اختتامی دعا بھی ہوگی اور دعا طویل ہونے کی وجہ سے فجر کی نماز اخیر وقت میں ادا کی جائے گی، اس دعا میں کثیر تعداد میں اہلِ محلہ کے شامل ہونے کا امکان ہے، جن میں باپردہ خواتین بھی ہوسکتی ہیں، مسجد میں جگہ نہ ہونے کے سبب لوگوں کا ہجوم مسجد سے باہر سڑکوں پر بھی ہوسکتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کی مجلس منعقد کرنا اور اس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں فجر کی نماز  سے پہلے بیان کرنا مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

1۔بیان کی وجہ سے نماز میں اتنی تاخیر نہ ہوتی ہو جس کی وجہ سے جماعت کی تعداد کم پڑجانے کاندیشہ ہو، بلکہ فجر کی نماز مسنون وقت اور مسنون قراءت کے اعتبار سے ادا کی جائے، البتہ ماہِ رمضان میں تکثیرِ جماعت کے لیےفجر کی نماز غلس یعنی اندھیرے میں بھی ادا کرنے کی فقہاء کرام نے اجازت دی ہے۔

2۔بیان کی وجہ سے سنتیں پڑھنے والوں کی نماز میں کوئی خلل واقع نہ ہوتا ہو۔ جبکہ عام طور پر لوگ فجر کی سنتیں مسجد میں آ کر ادا کرتے ہیں۔

3۔لاؤڈ اسپیکر کی آواز مجمع تک محدود رکھی جائے، لاؤڈ اسپیکر کی آواز اتنی بلند نہ رکھی جائے جس کی وجہ سے آس پاس کے گھروں میں رہنے والے لوگوں کو تکلیف ہو۔ اور نہ ہی باہر  کے اسپیکر استعمال کیے جائیں۔

4۔بیان سننے کے لیے خواتین مسجد میں نہ آئیں ، ان کے لیے  کسی خاص دن مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ  پردہ کے ساتھ انتظام کیا جاسکتا ہے۔

باقی زیرِ نظر مسئلہ میں بہتر اور مناسب  یہی ہے کہ فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد بیان کا سلسلہ قائم کیا جائے، جیسا کہ عام طور پر فجر کی نماز کے بعد ہی بیانات ہوتے ہیں۔

فیض الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"ثم إذا نشأ الإسلام وكثر المسلمون وعلم أن فيهم ضعفا عمل بالإسفار في زمن الصحابة رضي الله عنهم، لئلا يفضي إلى تقليل الجماعة، وقد علمت فيما سبق أن بطأ الناس وتعجيلهم مما قد راعاه النبي صلى الله عليه وسلم أيضا، ‌فلو ‌اجتمع ‌الناس ‌اليوم أيضا في التغليس لقلنا به أيضا كما في «مبسوط السرخسي» في باب التيمم أنه يستحب التغليس في الفجر، والتعجيل في الظهر إذا اجتمع الناس."

(كتاب مواقيت الصلاة، باب وقت الفجر، 177/2، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضًا:

"577 - قوله: (كنت أتسحر في أهلي، ثم يكون سرعة بي أن أدرك صلاة الفجر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم) ولعل هذا التغليس كان في رمضان خاصة، وهكذا ينبغي عندنا إذا اجتمع الناس، وعليه العمل في دار العلوم بديوبند من عهد الأكابر."

(كتاب مواقيت الصلاة، باب وقت الفجر، 178/2، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان.

قال ابن عابدين: (قوله ولو عجوزا ليلا) بيان للإطلاق: أي شابة أو عجوزا نهارا أو ليلا."

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، 566/1، ط: سعيد)

آپ کے مسائل اور اُن کا حل میں ہے:

""اذان کے لیے اُوپر کے اسپیکر کھولنے کا تو مضائقہ نہیں کہ باہر کے لوگوں تک اذان کی آواز پہنچانا مطلوب ہے ، لیکن نماز، تراویح، درس وغیرہ کے لیے اگر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی ضرورت ہو تو اس کی آواز مسجد کے مقتدیوں تک محدود رہنی چاہیے ، باہر نہیں جانی چاہیے ۔ تراویح کے لیے اور درس وغیرہ کے لیے باہر کے اسپیکر کھولنا عقلاً و شرعاًنہایت قبیح ہے۔"

(عنوان: مساجد کے باہر والے لاؤڈ اسپیکر اذان کے ماسوا کے لیے کھولنا نا جائز ہے، 398/3، ط: مکتبہ لدھیانوی)

وفیہ ایضًا:

"لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ضرورت ہے، شوق کی چیز نہیں، لاؤڈ اسپیکر کی آواز اتنی ہونی چاہیے، جس سے بلاوجہ لوگوں کو ایذا نہ ہو۔"

(عنوان: مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کتنی ہونی چاہیے؟، 263/3، ط: مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100061

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں