بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

محلہ کی مسجد میں اذان دینا وامامت کرنا افضل ہے یا جماعت میں دعوت و تبلیغ کے لیے نکلنا افضل ہے؟


سوال

ہمارے گاؤں ميں ايك  مسجد ہے، میں اذان اور نماز پڑھاتا ہوں، ہمارے محلے میں کوئی عالم اور حافظ نہیں ہے، صرف تبلیغ میں وقت لگے ہوئے ساتھی ہیں، لیکن وہ نماز اور اذان کی پابندی نہیں کرتے ہیں،  کیا میرے لیے جماعت میں جانا افضل ہے یا مسجد میں اذان  اور نماز پڑھانے کی ذمہ داری سنبھالنا افضل ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے محلہ میں کوئی عالم یا حافظ نہیں ہے جو نماز پڑھاسکے تو سائل کے لیے اپنے گاؤں کی مسجد میں اذان وامامت  کی ذمہ داری سنبھالنا ضروری ہے،کیوں کہ نماز فرض عین ہے، اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ اور واجب کے قریب ہے، کسی عذر کے بغیر جماعت کا چھوڑناجائز نہیں ہے، اور سائل كے جماعت ميں نكلنے سے  اس عظيم ذمہ داری كا ترك لازم آتاہے، جب کہ منصبِ امامت بہت ہی اونچا اور عالی شان منصب  ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک صحابی آپ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ میرے لیے کوئی عمل تجویز فرمادیجئے جس پر میں عمل کروں، آپ صلی اللہ نے فرمایا کہ اپنے قوم کا امام بن جا، اگر اس کی استطاعت نہیں ہے تو پھر ان کا مؤذن بن جا، صحابی نے عرض کیا کہ اگر میں مؤذن بننے کی استطاعت نہ رکھوں تو کیا حکم ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صفِ اول لازم پکڑو، چنانچہ مصنف ابن شیبہ میں ہے:

"حدثنا هشيم قال: نا داود بن أبي هند قال: حدثت أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، دلني على عمل أعمله، قال: «‌كن ‌إمام ‌قومك، فإن لم تسطع فكن مؤذنهم» قال: فإن لم أستطع؟ قال: «فكن في الصف الأول»".

(کتاب الصلوات، فی فضل الصف المتقدم، ج:1، ص: 332، ط:مکتبة الرشد، الریاض)

اور  دعوت کی غرض سے جماعت میں نکلنا فرض کفایہ ہے، کچھ لوگوں کے ادا کرنے سے باقی لوگوں کے ذمہ سے ساقط ہوجاتاہے،  اور اذان دے کر لوگوں کو نماز کی طرف بلانا اور لوگوں کی نماز پڑھانا بذاتِ خود دعوت ہے، اس لیے سائل  کے لیے اذان اور امامت کی ذمہ داری چھوڑ کر جماعت میں نکلنے كے مقابلہ میں  افضل اور بہتر یہ ہے کہ سائل اذان وامامت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دین کی دعوت دیا کرے  اور انہیں دین کے ضروری احکام مثلاً طہارت و نماز وغیرہ کے احکام سکھائے۔

ارشادِ باری تعالی ہے:

"اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلٰی الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا"(النساء:103)

ترجمہ:"یقیناً نماز مسلمانوں پر فرض ہے اور یہ وقت کے ساتھ محدود ہے"۔

(بیان القرآن، ج:1، ص:403، ط:رحمانیہ)

مشكاة المصابیح میں ہے:

"وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌بني ‌الإسلام ‌على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج وصوم رمضان".

(کتاب الإیمان، ج:1، ص:13، ط:رحمانیه)

ترجمہ:"اور حضرت عبداللہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر فرض ہے، اول بات کا دل سے اقرار کرنا اور گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں  اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، دوم پابندی کے ساتھ نماز پڑھنا، سوم زکوۃ دینا، چہارم حج کرنا، پنجم رمضان کے روزے رکھنا"۔

(مظاہرحق، ج:1، ص:91، ط:دارالاشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال :-تبلیغ دین اس زمانہ میں واجب ہے یاکچھ اور؟

الجواب حامداً ومصلیاً :

تبلیغ دین ہرزمانہ میں فرض ہے، اس زمانہ میں بھی فرض ہے لیکن فرض علی الکفایہ ہے، جہاں جتنی ضرورت ہواسی قدراس کی اہمیت ہوگی اورجس جس میں جیسی اہلیت ہواس کے حق میں اسی قدرذمہ داری ہوگی"۔

(باب التبلیغ، ج:4، ص:203، ط:فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100756

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں