بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مغرب کے وقت لائٹ جلانے کو ضروری سمجھنا اور گھر میں مکڑی کے جالوں کو نحوست کا باعث سمجھنا


سوال

1)  ہمارے اطراف میں ایک شور مچا ہوا ہے کہ عین مغرب کے وقت یا پھر اس سے کچھ پہلے گھروں میں چراغ یا پھرضرور لائٹ روشن کرنا چاہیے، ورنہ گھروں میں شیاطین اور جنات قابض ہو جاتے ہیں۔اور مزید یہ کہ اس عمل کو (یعنی مغرب کے وقت چراغ یا لائٹ نہ جلانے کو) شریعت کے خلاف بتایا جاتا ہے، تو برائے کرم رہنمائی فرمایئے کے ان لوگوں کا مسلمان ہونے کے باوجود ایسا عقیدہ رکھنا درست ہے یا نہیں؟ اور ہم ان کو اس کام سے کیسے روک سکتے ہیں؟

٢) ایک اور اسی طرح کا مسئلہ یہ ہے کہ گھر کے کونوں وغیرہ میں مکڑی کے جالے لگ جانا بھی شریعت کےخلاف بتایا جا رہا ہے،بے شک اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے،  لیکن گھر میں جالے لگ جانا منحوس قرار دیا جارہا ہے، رزق اور برکت کے گھر سے اٹھ جانے کا باعث بتایا جاتا ہے۔ برائے مہربانی اس بارے میں بھی راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

اَحادیثِ مبارکہ میں  یہ ضرور مذکور ہے کہ غروبِ آفتاب کے بعد زمین میں جنات کا انتشار ہوتاہے، اور نبی کریم ﷺ نے اس وقت بچوں کو گھروں میں روکنے کا حکم بھی فرمایا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس جگہ اندھیرا ہو وہاں جنات قابض ہوجاتے ہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے گھروں میں مستقل چراغ یا روشنی کا انتظام نہیں تھا، اس لیے کئی کئی دن چراغ نہیں جلتا تھا۔ 

اسی طرح  صفائی کا اہتمام رکھنا بھی  شرعی حکم ہے،اس کی رعایت  رکھی جائے، اور صفائی میں یہ بھی داخل ہے کہ مکڑی کے جالے وغیرہ بھی ہٹائے جائیں۔

لیکن سوال میں مذکورہ دونوں باتیں من گھڑت اور بے  بنیاد  ہیں، ان کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے،  گھرمیں برکت یانحوست  (بےبرکتی) کا تعلق آدمی کےاعمال سےہے،نیک اعمال برکت کااوربداعمالیاں (گناہ)  بےبرکتی کاسبب بنتی ہیں، اس لیے توہمات میں مبتلا ہونے کے بجائے نیک اعمال کا اہتمام کرناچاہیے۔

حیاۃ الحیوان میں بغیر سند کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول منقول ہے کہ گھروں میں مکڑی کے جالوں کا ہونا روزی میں بے برکتی کا سبب ہے۔ لیکن اوّلًا اس روایت کی سند و ثبوت نہیں ہے، نیز اگر اسے درست تسلیم بھی کیا جائے تو مکڑی کے جالوں کا بذاتِ خود نحوست کا سبب ہونا مراد نہیں ہے، بلکہ کسی چیز کے منحوس ہونے کا عقیدہ اسلامی عقیدے کے خلاف ہے،  یہاں اس سے مراد یہ ہوسکتا ہے کہ جس گھر کے لوگ اتنے سست ہوں کہ وہ مکڑی کے جالے بھی صاف نہ کرتے ہوں تو ایسے سست لوگ روزی کمانے میں بھی سست ہوں گے، اور دیگر نیک اعمال اور نظافت کے اہتمام میں بھی سست ہوں گے، لہٰذا ان کے اعمال کی نحوست یا سستی و غفلت کی وجہ سے اس گھر میں روزی کی برکت اُٹھ جائے گی۔ فقط واللہ اعلم

مزید دیکھیے:

مغرب کے وقت بچوں کو باہر لے کر بیٹھنا

مغرب کے وقت دروازے بند کرنے کی کیا حقیقت ہے؟


فتوی نمبر : 144212201614

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں