بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مفقود الخبر بھائی کے اپنے مرحوم والد کے ترکہ میں حصہ کا حکم


سوال

 ایک آدمی جس کے 3 بیٹے او1 بیٹی اور 1 بیوی ہو، سب سے بڑے بیٹے کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شادی نہیں کروائی گئی، جس کی عمر تقریباً 50 سال ہو چکی تھی،جب کہ دوسرے 2 بیٹوں اور بیٹی کی شادیاں کروا دی گئیں، اور ان کے ہاں اولاد بھی موجود ہے، پھر 1990 میں اچانک ایک دن بڑا بیٹا جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا، شہر کی طرف جاتا ہے اور گم ہو جاتا ہے، اپنی طاقت و بساط کے مطابق ہر طرح سے اس کی تلاش کی جاتی ہے، مگر وہ نہیں مل سکا، تقریباً عرصہ 3 سال گزرنے کے بعد 1993 میں وہ آدمی فوت ہو جاتا ہے جب کہ اس کا بیٹا تا حال گم ہی ہے، اب اس نے اپنے پسماندگان میں 1 بیوی 2 بیٹے اور 1 بیٹی چھوڑی جب کہ 1 بیٹا مفقود الخبر ہے، تقریباً مزید عرصہ 2 سال اور 6 سال کے بعد بیوی 1995 میں اور بیٹی 1999 میں یکے بعد دیگرے فوت ہو جاتی ہیں، والدین کی وفات کے بعد 3 بھائی اور 1 بہن کے حساب سے ترکہ کو تقسیم کر دیا گیا، بہن کا حصہ ادا کرنے کے بعد ایک بھائی کے مفقود الخبر ہونے کی بنا پر اس کی جائیداد کو دو بھائیوں نے عارضی طور پر آپس میں برابر کا تقسیم کر لیا، مگر اس کے بعد بھی تقریباً 24 سال مزید بھی گزر گئے ہیں، مگر اس مفقود الخبر بھائی کی زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے، کل ملا کے تقریباً 33 سال گمشدگی کی حالت میں گزر چکے ہیں جس میں سے 30 سال والد کی وفات کے بعد کے ہیں، اب یہاں سوال یہ ہے کہ اس گمشدہ شخص کی وراثت کیسے تقسیم کی جائے گی؟ کیا اس کی جائیداد میں سے اس کی فوت شدہ بہن کے بچوں کو بھی حصہ ملے گا یا وہ صرف 2 بھائیوں اور ان کی اولاد میں ہی تقسیم ہو گی؟ قرآن و سنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہےکہ جو شخص  لا پتہ ہو چکا ہو، اوراس کی زندگی اور موت کے بارے میں کوئی معلومات نہ ہوں ،وہ" مفقود الخبر" کہلاتا ہے،تو ایسے آدمی  کو اپنی ذات کے حق میں زندہ تصور کیا جائے گا ، یعنی  اس  کی  بیوی کسی سے نکاح نہیں کرسکتی ،اور اس کی میراث ورثاء کے درمیان تقسیم نہیں ہوگی، البتہ لاپتہ شخص کو میت اس وقت تصور کیا جائے گا جب یہ اپنی پیدائش کے وقت سے ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اس کے بعد متعلقہ عدالت سے  اس کی موت کا سرٹیفکٹ لے لیا جائے ، بعد ازاں اس مفقود کو   والد مرحوم کے ورثاء میں شمار نہیں کیا جائے گا،بلکہ  مرحوم والد کی وفات کے وقت جو ورثاء  موجود تھےان کے درمیان تقسیم کیا جائےگا  لہٰذاصورتِ مسئولہ میں چوں کہ   سائل کےبھائی کی عمرپیدائش کےوقت سےلےکرآج تک 60سال سے زائد  ہو چکی ہے،توایسی صورت میں سائل حکومت سےاپنےلاپتہ بھائی کی موت کاسرٹیفکٹ جاری کرواۓ،اور اب اس مفقود بھائی کا والد کی میراث میں اب کوئی حصہ نہیں ہے، اس مفقود بھائی کے نام پر جو حصہ دو بھائیوں نے  رکھ  لیا  تھا،وہ مرحوم والد کے انتقال کے وقت  جو شرعی ورثاء تھے ،ان تمام ورثاءمیں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کیا جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الدر:إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة.... وفي الرد:رأيت عبارة الواقعات عن القنية أن هذا أي ما روى عن أبي حنيفة من تفويض موته إلى رأي القاضي نص على أنه إنما يحكم بموته بقضاء."

(كتاب المفقود، (فرع)أبق بعد البيع قبل القبض، ج:4 ص:297 ط: سعيد)

و فیہ ایضاً:

"(وميت في حق غيره فلا يرث من غيره)....قوله: على المذهب) وقيل يقدر بتسعين سنة بتقديم التاء من حين ولادته واختاره في الكنز، وهو الأرفق هداية وعليه الفتوى ذخيرة، وقيل بمائة، وقيل بمائة وعشرين، واختار المتأخرون ستين سنة واختار ابن الهمام سبعين لقوله - عليه الصلاة والسلام - «أعمار أمتي ما بين الستين إلى السبعين» فكانت المنتهى غالبا.... قال في البحر: والعجب كيف يختارون خلاف ظاهر المذهب مع أنه واجب الاتباع على مقلد أبي حنيفة. وأجاب في النهر بأن التفحص عن موت الأقران غير ممكن أو فيه حرج، فعن هذا اختاروا تقديره بالسن.... قلت: وقد يقال: لا مخالفة بل هو تفسير لظاهر الرواية وهو موت الأقران، لكن اختلفوا؛ فمنهم من اعتبر أطول ما يعيش إليه الأقران غالبا، ثم اختلفوا فيه هل هو تسعون أو مائة أو مائة وعشرون، ومنهم وهم المتأخرون اعتبروا الغالب من الأعمار، أي أكثر ما يعيش إليه الأقران غالبا لا أطوله فقدروه بستين؛ لأن من يعيش فوقها نادر والحكم للغالب، وقدره ابن الهمام بسبعين للحديث؛ لأنها نهاية هذا الغالب ويشير إلى هذا الجواب."

(كتاب المفقود، ج:4 ص:296 ط: سعيد)

فتح القدیرمیں ہے:

"قال المصنف:( والأرفق ) أي بالناس ( أن يقدر بتسعين ) وأرفق منه التقدير بستين. وعندي الأحسن سبعون لقوله صلى الله عليه وسلم:{ أعمار أمتي ما بين الستين إلى السبعين } فكانت المنتهى غالباً، وقال بعضهم : يفوض إلى رأي القاضي ، فأي وقت رأى المصلحة حكم بموته واعتدت امرأته عدة الوفاة من وقت الحكم للوفاة كأنه مات فيه معاينة ، إذ الحكمي معتبر بالحقيقي."

(‌‌كتاب المفقود، ج:6 ص:149 ط: دار الفكر، لبنان)

البحر الرائق  میں ہے:

"إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(کتاب الحدود، فصل فی التعزیر، ج:5 ص:44 ط: دار الكتاب الإسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100488

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں