بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ میں زکوۃ دینا، زکوۃ میں مختلف اشیاء دینا


سوال

1- کیا زکوٰۃ مدرسہ کو دی جاسکتی ہے؟

2- کیا زکوٰۃ راشن ، کتابوں اور کپڑوں کی صورت میں دی جاسکتی ہے؟

3- کیا زکوٰۃ کسی رفاہی ادارے کو دی جاسکتی ہے؟

جواب

1- مدارسِ اسلامیہ  امت کی راہ  نمائی  اور شرعی علوم کی حفاظت و اشاعت میں مصروفِ عمل ہیں، اربابِ   مدارس کو  زکات کے مسائل اور ان کے مصارف کا خوب علم ہوتا ہے، اور الحمد للہ  اہلِ حق کے  مدارس ان مسائل کی رعایت رکھتے ہیں؛  لہذا جن مدارس میں مستحق طلبہ موجود ہوں وہاں  زکات  دینے سے نہ صرف یہ کہ زکات ادا ہو جاتی ہے، بلکہ  ان شاء اللہ تعالیٰ اس میں  دگنا اجر  ملے گا۔  البتہ  زکات دینے والے کو دیتے وقت بتادینا چاہیے کہ یہ زکات  کی رقم ہے، تاکہ منتظمین اسے  زکات کے مصارف میں ہی صرف کریں۔

2- جس طرح مستحقِ  زکات شخص کو  زکات کی رقم دی جا سکتی ہے،  اسی طرح  زکات کی رقم سے راشن، کتابیں اور  کپڑے خرید کر  مستحق شخص کو ان اشیاء کا مالک بنایا جا سکتا ہے، ایسا کرنے سے  زکات ادا کرنے والے کی زکات ادا ہو جائے گی۔ البتہ جتنی رقم کا راشن، کتب اور کپڑے خریدے گئے اور مستحق کو مالک بناکر دیا گیا، اتنی رقم کی زکاۃ ادا ہوگی، راشن اور کتب وغیرہ  خرید کر لانے اور منتقل کرنے کا کرایہ،یا راشن پیکج بنانے کے لیے مزدوروں کی اجرت وغیرہ زکات  کی رقم سے ادا کرنا درست نہیں ہوگا، اگر ایسا کیا گیا تو جتنی رقم کرایہ وغیرہ میں صرف ہوگی اتنی  زکات ادا نہیں ہوگی۔

ملحوظ رہے کہ اگر زکات میں کتابیں وغیرہ دینی ہوں تو مستحق کو مالک بنانا بھی ضروری ہے، اگر زکات کی رقم سے کتابیں خرید کر وقف کردی گئیں، کسی مخصوص شخص کو مالک نہیں بنایا تو اس سے زکات ادا نہیں ہوگی، ہاں صدقۂ جاریہ کا ثواب ضرور ملے گا۔

3- زکات کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے چوں کہ تملیک  (یعنی مستحق شخص کو مالک بنانا)  ضروری ہے، لہٰذا جس ادارے کی انتظامیہ مسلمان ہو، اور اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کی حامل ہو،  اور وہ مسلمان، غیر سید، مستحقِ  زکات فرد کو  زکات کا مالک بناکر زکات  صرف کرنے کا اہتمام کرتے ہوں، ایسے ادارے کو  زکات دینا درست ہے، اور  جس ادارے / ہسپتال  میں مذکورہ شرائط نہ پائی جاتی ہوں  اسے زکات  دینا درست نہیں ہے۔  اور جہاں شبہ ہو،  وہاں زکات  دینے کی بجائےخود مستحق تلاش کرکےاسے یا کسی مستند دینی ادارے کو  زکات دی جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں