بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کا نام "حی علی الفلاح" رکھنا


سوال

مدرسے کا نام "حی علی الفلاح" رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  "اذان"  کے مکمل الفاظ توقیفی  ہیں یعنی اللہ کی طرف سے بتائے گئے ہیں؛  لہذا   "حيّ على الفلاح "  بھی اذان کے لیے مخصوص الفاظ ہیں اور ان الفاظ کو اذان کے لیے ہی خاص رہنے دینا چاہیے،کسی ادارہ  کا نام رکھنے کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

وعن عبد الله بن زيد ابن عبد ربه - رضي الله عنه - قال: «لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناقوس يعمل ; ليضرب به للناس لجمع الصلاة، طاف بي وأنا نائم رجل يحمل ناقوسا في يده، فقلت: يا عبد الله! أتبيع الناقوس؟ قال: وما تصنع به؟ قلت: ندعو به إلى الصلاة. قال: أفلا أدلك على ما هو خير من ذلك؟ فقلت له: بلى. قال: فقال: تقول: الله أكبر، إلى آخره، وكذا الإقامة فلما أصبحت، أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأخبرته بما رأيت. فقال: (إنها لرؤيا حق إن شاء الله، فقم مع بلال، فألق عليه ما رأيت فليؤذن به، فإنه أندى صوتا منك) . فقمت مع بلال، فجعلت أسمعه عليه ويؤذن به. قال فسمع بذلك عمر بن الخطاب، وهو في بيته، فخرج يجر رداءه يقول: يا رسول الله! والذي بعثك بالحق لقد رأيت مثل ما أرى. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (فلله الحمد) » . رواه أبو داود، والدارمي."

(کتاب الصلاۃ باب الاذان ج نمبر ۲ ص نمبر ۵۳۳،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200178

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں