بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے سفیر کو جمع شدہ چندہ سے بطورِ کمیشن کچھ دیدینا جائز نہیں ہے


سوال

کیا کسی مدرسہ کا مہتمم مدرسہ کے سفیر کے ساتھ یہ طے کرسکتا ہےکہ آپ نے جتنا بھی چندہ اکٹھا کیا تو اسمیں سے آدھا چندہ آپ کا اور بقیہ آدھا مدرسہ کا ہوگا ، مہتمم صاحب کا یہ عمل درست ہے یا نہیں ؟ اور اگر مہتمم صاحب کا یہ عمل درست نہیں ہے تو اس کی جائز اور درست صورت سے آگاہ فرمائیے ۔

جواب

مدرسہ کے مہتمم کا مدرسہ کے سفیر کے ساتھ یہ معاملہ طے کرنا کہ جتنا بھی چندہ جمع ہو آدھا آپ کا ( یعنی سفیر کا ) اور آدھا مدرسہ کا ہوگا،  جائز نہیں ہے، بلکہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ سفیر کے لیے ماہانہ یا روزانہ کی بنیاد پر تنخواہ مقرر کر لی جائے ،  جمع شدہ چندہ سے کچھ یا آدھا معاوضہ کے طور پر سفیر کو دیدینا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثورًا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان".

(الدر المختار مع رد المحتار: (6/ 56) کتاب الإجارۃ،  باب الإجارۃ الفاسدۃ، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومنها: أن تكون الأجرة معلومةً. ومنها: أن لاتكون الأجرة منفعةً هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة".

(الفتاوى الهندية: (4/ 411)  کتاب الإجارة، الباب الأول: تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم  


فتوی نمبر : 144310100934

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں