بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مہتمم/ انتظامیہ کا مدرسہ کے مال کو قرض دینا اور معاف کرنا جائز نہیں


سوال

کسی استاذ  یا ملازم کو  مدرسے کے مال سے قرضہ دینے کے بعد  اگر  وہ  ملازم قرض موقوف کرنے کے  لیے درخواست  کرے تو  کیا  اس کو معاف کر دینا  مہتمم صاحب یا  مدرسہ کمیٹی کےلیے  جائز ہے؟

جواب

مدرسہ  کا مہتمم  اور کمیٹی مدرسے کی رقم صرف مدرسے کے مصالح میں لگانے کے پابند ہیں، انہیں مدرسہ کے  وقف مال کو بطورِ قرض دینے کی اجازت نہیں ہے، البتہ  مدرسہ  کے  اساتذہ اور ملازمین جو مدرسہ کے مصالح اورخدمت میں مصروف ہوں انہیں پیشگی تنخواہ  کی  مد  میں بطورِ قرض رقم دی جاسکتی ہے  جو  اُن  کی تنخواہ سے منہا کی جائے، بشرطیکہ اساتذہ یا ملازمین کودی جانے والی رقم خطیر نہ ہو جس کی وصولیابی تنخواہ سے مشکل یا ناممکن ہو۔

صورتِ  مسئولہ  میں  مدرسہ کے مہتمم یا کمیٹی کو مدرسہ کی قرض دی ہوئی رقم کو معاف  کرنا جائز نہیں ہے۔ مدرسہ کا مال مدرسہ انتظامیہ کے پاس امانت ہوتا  ہے، اور امین کا امانت  سے قرض دینا اور معاف کرنا جائز نہیں  ہے، ہاں ملازم کی تنخواہ میں سے اسے محسوب کیا جاسکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و أمّا حكمها فوجوب الحفظ على المودع و صيرورة المال أمانة في يده و وجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني. الوديعة لاتودع و لاتعار و لاتؤاجر و لاترهن، و إن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."

(كتاب الوديعة، الباب الأول في تفسير الإيداع الوديعة وركنها وشرائطها وحكمها، ج: 4، صفحہ: 337، ط: دار الفکر)

فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:

"رجل جمع مالاً من الناس لينفقه في بناء المسجد، فأنفق من تلك الدراهم في حاجة نفسه، ثم ردّ بدلها  في نفقة المسجد لايسعه أن يفعل ذلك، فإن فعل فإن عرف صاحب ذلك ردّ عليه أو سأله تجديد الإذن فيه."

(کتاب الوقف، الفصل الرابع و العشرون في الأوقاف ... الخ، ج:5، صفحہ: 879، ط: ادارۃ القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201415

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں