بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مدارس و جامعات کےناموں کی وضاحت


سوال

 مدارس و مکاتبِ دینیہ کےناموں کے آخر میں "ی ہ "لگاکر مذکر کو مؤنث کر دیا جاتا ہے ،جیساکہ   رحمانیہ، صدیقیہ، فاروقیہ ،عثمانیہ،بِلالیہ،   کیا اس طرح سے مدارس و مکاتب کے نام رکھ سکتے ہیں ؟اس میں کچھ مضائقہ تو نہیں؟

جواب

مدارس و مکاتبِ دینیہ کےناموں کےآخر میں "یاء "نسبتی ،جب کہ "ہ" تانیث کی ہوتی ہے،دراصل یہ مذکورہ نام(رحمانیہ ،صدیقیہ وغیرہ)مذکرلفظ کی طرف منسوب ہوتےہیں،جیساکہ رحمانیہ رحمن کی طرف اورصدیقیہ صدیق کی طرف ،اس بناء پراس کےآخر میں "یاءِ نسبتی" لگائی جاتی ہے،اورچوں کہ یہ الفاظ(رحمانیہ ،صدیقیہ وغیرہ)لفظِ "مدرسۃ" یا لفظِ "جامعۃ" کی صفت ہوتے ہیں تواس بناء پران کےآخرمیں موصوف اورصفت میں مطابقت کی خاطر تانیث کےلیے "تاءِ مدوّرہ  (گول تاء)"لائی جاتی ہے۔

لہٰذامدارس و جامعات کےاس طرح نام رکھنادرست ہے،اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

"شرح كتاب سيبويه"میں ہے:

"قال: " وتلحق مضاعفة كل اسم إذا أضيف نحو هني ".

يعني ‌ياء ‌النسبة كقولك: بصري وتميمي وقيسي وما أشبه ذلك، وهو يسمى النسبة الإضافة، وذلك لأنك إذا نسبت اسما إلى اسم فقد أضفته إليه بأن جعلته في حيزه.

قال: " كما تلحق الألف كل اسم جمعت بالتاء قبل التاء ".

يعني أن الياء تكون للنسبة في كل اسم ينسب إليه علامة لازمة."

(هذا باب عدة ما يكون عليه الكلم، 115/5، ط: دارالکتب العلمیۃ)

"شرح ابن عقيل على ألفية ابن مالك" میں ہے:

"وليعط في التعريف والتنكير ما … لما تلا ك امرر بقوم كرما"

النعت يجب فيه أن يتبع ما قبله في إعرابه وتعريفه أو تنكيره نحو مررت بقوم كرماء ومررت بزيد الكريم فلا تنعت المعرفة بالنكرة فلا تقول مررت بزيد كريم ولا تنعت النكرة بالمعرفة فلا تقول مررت برجل الكريم."

"وهو لدى التوحيد والتذكيرأو … سواهما كالفعل فأقف ما قفوا.

تقدم أن النعت لا بد من مطابقته للمنعوت في الإعراب والتعريف أو التنكير وأما مطابقته للمنعوت في التوحيد وغيره وهي التثنية والجمع والتذكير وغيره وهو التأنيث فحكمه فيها حكم الفعل فإن رفع ضميرا مستترا طابق المنعوت مطلقا نحو زيد رجل حسن والزيدان رجلان حسنان والزيدون رجال حسنون وهند امرأة حسنة والهندان امرأتان حسنتان والهندات نساء حسنات فيطابق في التذكير والتأنيث والإفراد والتثنية والجمع."

(التوابع، النعت، 193/3، ط: دارالتراث القاهرة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101589

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں