بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مچھر کو مارنے کے لیے الیکٹرانک مشین استعمال کرنا


سوال

رات کو ایسی لائٹ جلانا جس کی طرف مچھر آتا ہے اور جل کے مرجاتا ہے اس کا استعمال کیسا ہے ؟جب کہ حدیث شریف میں آگ کے عذاب کی ممانعت ہے !

جواب

مچھر  کو مارنے کے لیے زہریلی دوا اور الیکٹرانک مشین کا استعمال جائز ہے، اس مشین میں آگ نہیں، بلکہ بجلی ہوتی ہے، اور ضرورت کے مواقع پر موذی اشیاء کو اس طرح مارنے کی شرعاً اجازت ہے۔ جہاں تک موذی چیزوں کو آگ میں جلانے کی ممانعت کا تعلق ہے، اس میں اہلِ علم نے تفصیل ذکر کی ہے، جس کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے۔

العرف الشذي شرح سنن الترمذي (3/ 145):
"وأما مسألة الإحراق، فمأخذ من قال بعدم الجواز رواية أبي هريرة قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «إن وجدتم فلاناً وفلاناً ـ لرجلين من قريش ـ فأحرقوهما بالنار»، ثم قال: إلخ، وأصل الواقعة أنه لما خلص أبا العاص وأخذ منه الوعد بأنه يرسل زينب إلى المدينة فأرسل صلى الله عليه وسلم زيد بن حارثة لقتل جبار بن أسود كان آذى زينب، فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه في أثره؛ ليحرقوه، ثم منع عن الإحراق، وزعم بعض أنه اطلع على الخطأ في حكم الإحراق، أقول: لا داعي إلى هذا، بل هذا إمهال في دار الدنيا ومسامحة؛ ليؤخذ في الآخرة أشدّ الأخذ، ولايدلّ على منع الإحراق، وثبت الإحراق عن الصحابة أيضاً، وفي الدر المختار ص (334): جواز إحراق اللوطي، وروي عن أحمد بن حنبل جواز إحراق الحيوانات المؤذية من القمل والزنابير وغيرها، وبه أخذ عنه عدم البد منه". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں