بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مجبوری کی حالت میں سودی قرضہ لینا


سوال

سود واضح طور پر ایک گناہ ہے جس میں کوئی شک و شبہ والی گنجائیش نہیں۔ مجھے سبھی حوالوں میں سود کھانے یا لینے کی ممانعت کے بارے میں معلوم ہے۔ برائے مہربانی اس بارے میں بھی بتائیے گا کہ جو شخص مجبوری کے تحت سود پر قرض لیتاہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں،اگر کسی کو سخت مجبوری اور محتاجی ہے ایسی کہ گذارہ کی بھی کوئی صورت نہ ہو اور بغیر سودکے کہیں سے قرض نہ مل رہا ہو تو ایسی مجبوری میں سود پر قرضہ لینے کی گنجائش ہے، اس صورت میں گناہ سود پر قرض دینے والے کو ہوگا۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143507200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں