بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

منی اور مذی میں فرق اور نیند کی حالت میں نکلنے والے قطروں کاحکم


سوال

منی اور مذی  میں فرق کیا ہے ؟ نیز رات کو سونے میں جو قطرے نکلیں گے وہ صرف منی ہی ہو سکتے ہیں یا کسی اور قسم سے بھی؟ غسل کن کن قطروں سے واجب ہوگا؟

جواب

"منی" وہ گاڑھا مادہ ہے جو  کود کر شہوت اور لذت کے ساتھ  اگلی شرم گاہ سے خارج ہوتاہے، اور اس کے بعد شہوت ختم یا کم ہوجاتی ہے، خواہ جماع کے وقت ہو یا اس کے  علاوہ کسی حالت میں ہو۔

"مذی " وہ پتلا لیس دار مادہ  جو پانی کی رنگت کا ہوتاہے،  جو شہوت کے جوش کے وقت مرد وعورت کے آگے کے راستے سے نکلتا ہے ، (اور اس کے نکلنے کا احساس بھی نہیں ہوتا، اس کے نکلنے پر شہوت قائم رہتی ہے اور جوش کم نہیں ہوتا، بلکہ شہوت میں  مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔)

2-رات کو نیند کی حالت میں نکلنے والے قطرے منی اور مذی دونوں قسم کے ہوسکتے ہیں، اس میں اگر احتلام یاد ہو یامنی کے قطرے ہونے کایقین ہو تو اس صورت میں غسل واجب ہوگا، اور اگر احتلام یاد نہ ہواور منی کے قطرے کے یقین نہ تو وہ مذی کے قطرے شمار ہوں گے،  اور اس صورت میں غسل واجب نہیں ہوگا۔

3-غسل صرف منی کے قطرے اگر شہوت اور لذت کے ساتھ نکلے چاہے نیند کی حالت میں ہویا بیداری میں دونوں صورتوں میں غسل واجب ہوجاتاہے، اس کے علاوہ مذی وغیرہ کے قطروں سے غسل واجب نہیں ہوتا البتہ مذی  کے قطرے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتاہے،اور جہاں پر لگا ہے اس کو دھونا ہوتا ہے۔

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"المذي ينقض الوضوء وكذا الودي والمني إذا خرج من غير شهوة بأن حمل شيئا فسبقه المني أو سقط من مكان مرتفع يوجب الوضوء. كذا في المحيط.

ومني الرجل خاثر أبيض رائحته كرائحة الطلع فيه لزوجة ينكسر الذكر عند خروجه، ومني المرأة رقيق أصفر والمذي رقيق يضرب إلى البياض يبدو خروجه عند الملاعبة مع أهله بالشهوة ويقابله من المرأة القذي."

(كتاب الطهارة، الباب الخامس عشر فى نواقض الوضوء، ج:1، ص:10، ط:المكتبه:رشيديه) 

البحر الرائق میں ہے:

"واعلم أن هذه المسألة على اثني عشر وجها؛ لأنه إما أن يتيقن أنه مني أو مذي أو ودي أو شك في الأول والثاني أو في الأول والثالث أو في الثاني والثالث وكل من هذه الستة إما أن تكون مع تذكر الاحتلام أو لا فيجب الغسل اتفاقا فيماإذا تيقن أنه مني وتذكر الاحتلام أو لا."

(كتاب الطهارة، أحكام الغسل، موجبات الغسل، ج:1، ص:58، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100351

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں