بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ماں سے بچہ مرجانے کا حکم


سوال

ماں سے بچہ مر گیا تو کفارہ کیا ہے؟

جواب

اگر بچہ ماں سے غلطی سے (مثلًا  سوتے میں ماں کے نیچے دب کر) مرجائے تو یہ قتل جاری مجری خطا ہے، اس میں عاقلہ پر دیت اور والدہ پر  کفارہ لازم ہے،  دیت کی مقدارسو اونٹ یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار(موجودہ زمانے کے اعتبار سے 30 کلو 618 گرام چاندی)  یا اس کے برابر قیمت ہے،   دیت میں حاصل شدہ مال مقتول کے ورثہ میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہو گا۔  جو وارث اپنا حصہ معاف کر دے گا اس قدر معاف ہو جائے گا اوراگر سب نے معاف کر دیا تو سب معاف ہو جائے گا۔

  کفارے میں مسلسل ساٹھ روزے رکھنا   لازم ہو گا،  کفارہ کے روزے میں اگرمرض کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہے تو از سر نو رکھنے پڑیں گے، ہاں! عورت کے حیض کی وجہ سے تسلسل ختم نہیں ہو گا، یعنی اگرعورت   60 روزے کفارہ میں رکھ رہی ہے تو  60 روزے رکھنے کے دوران ماہ واری کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ ماہ واری سے فراغت کے بعد 60 روزوں کو جاری رکھے گی۔

 یہ عورت اپنے بچے کی  میراث سے محروم ہوجائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: الموجب للقود أو الكفارة) الأول هو العمد وهو أن يقصد ضربه بمحدد أو ما يجري مجراه في تفريق الأجزاء، والثاني ثلاثة أقسام: شبه عمد، وهو أن يعتمد قتله بما لايقتل غالبًا، كالسوط، وخطأ كأن رمى صيدًا فأصاب إنسانًا، وما جرى مجراه كانقلاب نائم علی شخص أو سقوطه عليه من سطح، فخرج القتل بسبب؛ فإنه لايوجبهما كما لو أخرج روشنًا أو حفر بئرًا أو وضع حجرًا في الطريق؛ فقتل مورثه أو أقاد دابةً أو ساقها فوطئته أو قتله قصاصًا أو رجمًا أو دفعًا عن نفسه أو وجد مورثه قتيلًا في داره أو قتل العادل الباغي و كذا عكسه إن قال: قتلته و أنا على حق و أنا الآن على الحق، و خرج القتل مباشرةً من الصبي و المجنون؛ لعدم وجوب القصاص و الكفارة. و تمامه في سكب الأنهر وغيره".

(767/6ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200670

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں