بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ماں کو چھونے یا بوسہ لینے سے حرمتِ مصاہرت کا حکم


سوال

کسی نے اپنی سگی ماں کا بوسہ لیا یا چھوا اس دوران شہوت نہ تھی اور پھر  چھوتے ہی انتشار ہو گیا، لیکن وہ دور ہو گیا انتشار آ نے پر تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے شہوت کے بغیر ماں کا بوسہ لیا یا اس کو چھوا اور  اس وقت شہوت نہیں تھی ، بعد میں  انتشار ہونے لگا اور فوراً الگ ہوگیا تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔ البتہ اس سلسلے میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: والعبرة إلخ) قال في الفتح: وقوله: بشهوة في موضع الحال، فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة، ثم اشتهى عن ذلك المس لاتحرم عليه. اهـ.وكذلك في النظر كما في البحر، فلو اشتهى بعدما غض بصره لاتحرم. قلت: ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها؛ لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جاريةً مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا".  (3/ 32، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ط: سعید)

تبیین الحقائق میں ہے:

"والشهوة تعتبر عند المس والنظر حتى لو وجدا بغير شهوة ثم اشتهى بعد الترك لاتتعلق به الحرمة، وحد الشهوة أن تنتشر آلته أو تزداد انتشارًا إن كانت منتشرةً حتى قيل: إن من انتشرت آلته وطلب امرأته وأولجها بين فخذي ابنتها لاتحرم عليه أمها ما لم تزدد انتشارًا، و وجود الشهوة من أحدهما يكفي". (2/ 107، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، القاهرة) فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144107200440

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں