بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1442ھ 24 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

ماں کے پیٹ میں بچے کی جنس معلوم کرنے کا حکم


سوال

جیسا کہ ان دنوں سائنس کی ترقی کی وجھ سے لوگ اپنے بچے کی جنس پیدائش سے کافی پہلے دریافت کر سکتے ہیں۔ اگرایسا تجسس کی وجہ سے کیا جائے تو کیسا ہے کیا ایسا کرنا درست ہوگا ؟

جواب

صورت مسئولہ میں بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے جستجو پسندیدہ عمل نہیں ۔بچے کی جنس جو بھی ہو وہ دنیا میں آتا ہی رہے گا اور اگر جنس معلوم کرنے کے لیے ستر کھولنا پڑے تو یہ ناجائز عمل ہے ،اس مقصد کے لیے ستر کھولنا کہ آلہ رکھ کر جنس معلوم کی جائے یہ جائز عمل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200301

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں