بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ماں کے پیٹ میں بچہ کا سر نہ بننے کی وجہ سے اسقاطِ حمل


سوال

ماں کے پیٹ میں بچہ ہے اسکا پورا جسم ہے سوائے سر کے اسکا سر نہیں بن رہا اسکا اسقاط جائز ہے ؟؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب

اگر حمل چار ماہ کا ہو جائے تو اسے ضائع کرنا کسی صورت جائز نہیں، اگر حمل چار ماہ سے کم کا ہو اور دین دار اورماہر ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ بچہ کی پیدائش کی وجہ سے ماں کی جان کو یقینی یا غالب گمان کے مطابق خطرہ ہے یا ماں کی صحت حمل کاتحمل نہیں کرسکتی تو اسقاط حمل کی گنجائش ہو گی،   نیز الٹرا ساؤنڈ میں بچے کی کسی بیماری کا علم یقینی نہیں، بلکہ گمان کے درجے میں ہوتا ہے، اور اگر یقینی بھی ہوتو اللہ پاک بقیہ مدت میں اس کی تکمیل پر قدرت رکھتے ہیں اوربالفرض آخر وقت تک بھی بچہ صحیح سالم نہ ہو پھر بھی اس کااسقاط جائز نہٰیں ؛ کیوں کہ بیمار انسان کو مارناجائز نہیں۔آپ اللہ پاک سے صحت یابی کی دعاکریں اورا س سے اچھی امید رکھیں ۔

الفتاوى الهندية (5/ 356)
العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200366

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں