بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ماں اپنے بچے کو کس عمر تک دودھ پلانے کی پابند ہے؟


سوال

ماں اپنے بچے کو کس عمر تک اپنا دودھ پلانے کی شرعًا پابند ہے؟

جواب

رضاعت (دودھ پلانے)  کی مدت دو سال ہے،   خواہ لڑکا ہو یا لڑکی،  دو سال کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں ہے، البتہ  اگر کوئی بچہ یا بچی  زیادہ کم زور ہو تو  اُسے ضرورتًا  ڈھائی  سال تک بھی دودھ  پلانے  کی  گنجائش ہے،  اور ڈھائی سال کے اندر اندر دودھ  پلادیا تو اس سے حرمتِ رضاعت بھی ثابت ہوجاتی ہے۔  

نیز   دو   سال (یا مجبوری میں ڈھائی سال) تک دودھ   پلانے   کا حکم وجوبی نہیں ہے، بلکہ یہ دودھ   پلانے کی  مدت ہے، لہٰذا اگر کوئی بچہ اس مدت کے پورا ہونے سے پہلے ہی خود سے دودھ چھوڑ دیتا ہے، یا والدین کے اتفاق سے اس مدت سے پہلے ہی بچے کا دودھ چھڑا دیا جاتاہے، اور  بچے کے لیے متبادل غذا کا بندوبست بھی موجود ہے تو  ماں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

اسی طرح اگر ماں کم زور ہے اور اس کی چھاتیوں میں دودھ نہیں اترتا یا کوئی اور عذر ہے تو اسے دودھ پلانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، بلکہ بچے کے باپ کے ذمے ہوگا کہ وہ کسی انّا کا انتظام کرکے بچے کو دودھ  پلائے۔ لیکن اگر ماں کو  عذر نہ ہو تو  اسے بچے کو دودھ پلانا چاہیے کہ یہ بچے کا حق ہے، اور ماں پر دیانتًا واجب ہے، اور    جب کہ  عورت بچے یا بچی کو دودھ پلارہی ہو تو شوہر کو اس عرصے میں بیوی کی غذا، صحت اور لباس پوشاک وغیرہ کا بطورِ خاص انتظام کرنا چاہیے۔ 

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ  فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّا آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ  وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾  [ البقرة : 233]

ترجمہ: اور مائیں اپنے بچوں کو دوسال کامل دودھ  پلایا کریں،  یہ (مدت)  اس کے لیے ہے جو کوئی شیر خوار گی کی تکمیل کرنا چاہے،  اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے ذمے  ہے ان (ماؤ ں) کا کھانا اور کپڑا  قاعدے کے موافق،  کسی شخص کو حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق،  کسی ماں کو تکلیف نہ پہنچانا چاہیے اس کے بچے  کی وجہ سے،  اور نہ کسی باپ کو تکلیف دینی چاہیے اس کے بچے  کی وجہ سے۔    اور مثل  طریق مذکور کے اس کے ذمے  ہے جو وارث ہو ۔  پھر اگر دونوں دودھ  چھڑانا چاہیں اپنی رضامندی اور مشورہ  سے تو دونوں پر کسی قسم کا گناہ نہیں، اور  اگر تم لوگ اپنے بچوں کو (کسی اور انّا کا) دودھ  پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں، جب کہ  ان کے  حوالہ کردو جو کچھ ان کو دینا طے کیا ہے قاعدہ کے موافق ۔ اور حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ حق تعالیٰ تمھارے کیے ہوئے کاموں کو خوب دیکھ رہے ہیں ۔

تفسیر بیان القرآن میں ہے:

"[ف: 2]یعنی بچہ کے ماں باپ آپس میں کسی بات پر ضداضدی نہ کریں،  ماں اگر کسی وجہ سے معذور نہ ہو تو ا س کے ذمے  دیانتًا  یعنی عنداللہ واجب ہے کہ بچہ کو دودھ  پلائے،  جب کہ وہ منکوحہ ہو یا عدت میں ہو اور اجرت لینا درست نہیں،  اور اگر طلاق کے بعد عدت گزرچکی تو اس پر بلا اجرت دودھ  پلانا واجب نہیں ۔

اگر ماں دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس پر جبر نہ کیا جائے گا، البتہ اگر بچہ کسی کا دودھ نہیں  لیتا نہ اوپر کا دودھ  پیتا ہے تو ماں کو مجبور کیا جائے گا۔

ماں دودھ پلاناچاہتی ہے اور اس کے دودھ  میں کوئی خرابی بھی نہیں تو باپ کو جائز نہیں کہ اس کونہ پلانے دے اور دوسری انّا کا دودھ پلوائے۔

ماں دودھ پلانے پر رضامند ہے، لیکن اس کا دودھ بچہ کو مضر ہوگا تو باپ کو جائز ہے کہ اس کو دودھ نہ پلانے دے اور کسی دوسری انّا کا دودھ پلوائے۔

[ف: 3]باپ کے ہوتے ہوئے بچہ کی پرورش کا خرچ صرف باپ کے ذمہ ہے اور جب باپ مرجائے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بچہ مالک  مال کا ہے تب تواسی مال میں اس کا خرچ ہوگا اور اگر مالک مال کا نہیں تو اس کے مال دار عزیزوں میں سے جو اس کے محرم ہیں اور محرم ہونے کے علاوہ شرعًا اس کے مستحق میراث بھی ہیں،  پس ایسے محرم وارث رشتہ داروں کے ذمہ اس کا خرچ واجب ہوگا اور ان رشتہ داروں میں ماں بھی داخل ہے۔"

احکام القرآن میں ہے : 

والصحيح أنه لاحد لأقله ، وأكثره محدود بحولين مع التراضي بنص القرآن.

( أحكام القرآن ، سورة البقرة: ۲۳۳، (۱ / ۲۷۳ )، ط: دار الکتب العلمیة ، بیروت )

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:3 ص:209، ط:دار الفكر-بيروت):

’’باب الرضاع: (هو) لغةً بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعاً: (مص من ثدي آدمية) ولو بكراً أو ميتةً أو آيسةً، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما، وهو الأصح) فتح، وبه يفتى كما في تصحيح القدوري عن العون،  لكن في الجوهرة أنه في الحولين ونصف، ولو بعد الفطام محرم وعليه الفتوى. واستدلوا لقول الإمام بقوله تعالى: {وحمله وفصاله ثلاثون شهراً} [الأحقاف: 15] أي مدة كل منهما ثلاثون غير أن النقص في الأول قام بقول عائشة: لايبقى الولد أكثر من سنتين ومثله لايعرف إلا سماعاً، والآية مؤولة لتوزيعهم الأجل على الأقل والأكثر فلم تكن دلالتها قطعيةً، على أن الواجب على المقلد العمل بقول المجتهد وإن لم يظهر دليله كما أفاده في رسم المفتى، لكن في آخر الحاوي: فإن خالفا قيل: يخير المفتي، والأصح أن العبرة لقوة الدليل.

 (قوله: لكن إلخ) استدراك على قوله: وبه يفتى. وحاصله أنهما قولان، أفتى بكل منهما ط ... (قوله: والأصح أن العبرة لقوة الدليل) قال في البحر: ولايخفى قوة دليلهما، فإن قوله تعالى: {والوالدات يرضعن} [البقرة: 233] الآية يدل على أنه  لا رضاع بعد التمام. وأما قوله تعالى: {فإن أرادا فصالاً عن تراض منهما} [البقرة: 233] فإن ما هو قبل الحولين بدليل تقييده بالتراضي والتشاور، وبعدهما لايحتاج إليهما. وأما استدلال صاحب الهداية للإمام وقوله تعالى: {وحمله وفصاله ثلاثون شهراً} [الأحقاف: 15] بناء على أن المدة لكل منهما كما مر، فقد رجع إلى الحق في باب ثبوت النسب من أن الثلاثين لهما للحمل ستة أشهر والعامان للفصال. اهـ.‘‘

تفسير الطبري = جامع البيان ط هجر (4/ 199):

’’القول في تأويل قوله تعالى: {والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف لا تكلف نفس إلا وسعها لا تضار والدة بولدها ولا مولود له بولده وعلى الوارث مثل ذلك فإن أرادا فصالاً عن تراض منهما وتشاور فلا جناح عليهما وإن أردتم أن تسترضعوا أولادكم فلا جناح عليكم إذا سلمتم ما آتيتم بالمعروف واتقوا الله واعلموا أن الله بما تعملون بصير} [البقرة: 233] يعني تعالى ذكره بذلك: والنساء اللواتي بن من أزواجهن ولهن أولاد قد ولدنهم من أزواجهن قبل بينونتهن منهم بطلاق أو ولدنهم منهم بعد فراقهم إياهن من وطء كان منهم لهن قبل البينونة يرضعن أولادهن، يعني بذلك أنهن أحق برضاعهم من غيرهن، وليس ذلك بإيجاب من الله تعالى ذكره عليهن رضاعهم، إذا كان المولود له والداً حياً موسراً؛ لأن الله تعالى ذكره قال في سورة النساء القصرى: {وإن تعاسرتم فسترضع له أخرى} [الطلاق: 6] وأخبر تعالى، أن الوالدة، والمولود، له إن تعاسرا في الأجرة التي ترضع بها المرأة ولدها، أن أخرى سواها ترضعه، فلم يوجب عليها فرضًا رضاع ولدها، فكان معلومًا بذلك أن قوله: {والوالدات يرضعن أولادهن حولين} [البقرة: 233] دلالة على مبلغ غاية الرضاع التي متى اختلف الولدان في رضاع المولود بعدها، جعل حدًّا يفصل به بينهما، لا دلالة على أن فرضًا على الوالدات رضاع أولادهن، وأما قوله {حولين} [البقرة: 233] فإنه يعني به سنتين.‘‘

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144206200230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں