بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مالی جرمانہ اور اس کا حساب کرنا


سوال

 میں 1 ادارے میں اکاؤنٹ کا کام کرتا ہوں میر ے ذمہ طلباء کی فیس جمع کرنا ہے ۔1 سوال تو یہ ہے کہ طلباء کے فیس واؤچر پر مقرر کردہ تاریخ کے بعد جرمانہ وصول کیا جاتا ہے ،آپ سے گزارش ہے کہ یہ بتائیں کی جو جرمانہ وصول کیا جاتا ہے وہ سود کے ذمرے میں آتا ہے یا جائز ہے۔2سوال یہ ہے کہ میں فیس اور جرمانہ وصول کرتا ہوں کیا اگر وہ سود ہے تو جو میں نوکری کرتا ہوں کیا وہ اس کے بدلے میں جو مجھے اجرت یا تنخواہ ملتی وہ جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

 مالی جرمانہ لینا جائز  نہیں، اس لئے آپ کا مالی جرمانہ وصول کرنا اور اس کا حساب رکھنا بھی درست نہیں، انتظامیہ کو مطلع کرکے کسی متبادل کی کوشش کریں۔

كذا في كتب الفتاوى:

  • وفی شرح الآثار: التعزیر بأخذ المال کانت فی ابتداء الاسلام ثم نسخ. (البحر الرائق /باب التعزیر44/5 )
  • والحاصل أن المذہب عدم التعزیر بأخذ المال. (شامی / باب التعزیر، مطلب فی التعزیر بأخذ المال،61/4)
  • لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی. (شامی / باب التعزیر، مطلب فی التعزیر بأخذ المال،61/4)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101045

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں