بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مال ادھار پر لےکر اسے فروخت کرکے حاصل شدہ پیسوں سے مزید کاروبار کرنے کا حکم


سوال

ایک صاحب  کو کچھ مال سپلائی کرتا تھا، اصل قیمت سے دس فیصد زائد نفع ڈیڑھ ماہ کے ادھار پر طے تھا، وقت کے ساتھ ان صاحب نے ادھار کا دورانیہ ڈیڑھ سے دو اور پھر ڈھائی مہینہ کردیا، جس کی وجہ سے ادھار کی رقم تقریباً سوا کروڑ ہوگئی،ہر مہینے تقریباً  چالیس لاکھ کا مال جاتا تھا وہ صاحب اس مال کو آگے دیکر وہاں سے پیسے وصول کرکے ہمیں دیتے تھے، مال کی مہنگائی کی وجہ ان صاحب نے اچانک دس فیصد زائد نفع ختم کرنے کی بات کی،جس کی وجہ سے کام بند کردیا، لیکن آگے سے پیسے وصول کرنے کے باوجود ہمارےپیسے جو تقریباً سوا کروڑ روپے ہیں ، روک لیے، اور ہر مہینہ تقریباً چالیس یا پچاس لاکھ آگے سے وصول کرکے ان پیسوں(ہمارے پیسوں سے ) سے نقد مال خریدنا شروع کردیا، اور ہمارے پیسے ہماری مرضی کے خلاف استعمال کرنے شروع کردیے۔

۱۔کیا ہمارےپیسے ہماری مرضی کے خلاف استعمال کرناجائز ہے؟

۲۔کیا ہمارے پیسوں سے جو بچت ہوگی اس کا نفع ان کےلیے جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جس شخص سے کاروبار کرتے ہوئے اس کو ادھار پر مال دیا تھا، تو اس مال کی قیمت(جو سوا کروڑ کے قریب ہےوہ) مذکورہ شخص پر قرض ہے ،اور اس کی ادائیگی اس شخص کے ذمہ  لازم ہے، قرض کی ادائیگی پر قادر ہونے کےباوجود قرض اتارنے میں ٹال مٹول کرنا اور قرض خواہ کے قرض کی ادائیگی کا انتظام نہ کرنا ظلم ہے،نیز  استطاعت کے باوجود اگر کوئی قرض نہ اتارے تو اندیشہ ہے کہ کہیں اس وعید کا مستحق نہ بن جائے جس کے مطابق مقروض شہید بھی ہوجائے تو قرض کے وبال سے اسے خلاصی نہیں ملے گی، جب کہ شہید کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ اس پر قرض تو نہیں ہے؟ اگر میت مقروض نہ ہوتی تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ پڑھاتے اور اگرمیت مقروض ہوتی اور اپنے پیچھے قرض کی ادائیگی کا انتظام نہ چھوڑا ہوتا اور کوئی اس کے قرض کی ضمانت بھی نہ لیتا تو صحابہ سے کہہ دیتے کہ اپنے بھائی کا جنازہ ادا کرلو، اور آپ ﷺ ایسے افراد کی نمازِ جنازہ ادا نہ فرماتے؛ تاکہ امت کو قرض میں ٹال مٹول کی برائی اور اس کی شدت کا احساس ہو۔ بعد میں جب آں حضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو پھر آپ ﷺ جنازے کے موقع پر یہ سوال فرماتے، اگر میت مقروض ہوتی اور اس نے ادائیگی کا انتظام نہ چھوڑا ہوتا تو آپ ﷺ خود اس کے قرض کی ادائیگی کا انتظام فرماتے اور نمازِ جنازہ ادا فرماتےتھے، البتہ اس نے اس قرض کی رقم سے کاروبار کرکے جو نفع کمایا وہ نفع اس پر ناجائز اور حرام نہیں ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ’’مطل ‌الغني ‌ظلم، وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع‘‘."

(باب تحريم مطل الغني، وصحة الحوالة، واستحباب قبولها إذا أحيل على ملي، ج:3، ص:1197، رقم الحدیث:1564، ط:دار إحياء التراث العربي)

الأشباہ والنظائر میں ہے:

"أن ‌النقد ‌لا ‌يتعين ‌بالتعيين."

(‌‌‌‌المآخذ المختلف فيها بين الأئمة التي يبني عليها فروع [فقهية]،ج:2، ص:271، دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101469

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں