بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مال خرید کر قبضہ کرکے آگے مقررہ نفع رکھ کر فروخت کرنا جائز ہے


سوال

کسی کو  مال خرید کر دینا اور فی آئٹم مقررہ نفع لینا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو یہ کہے کہ آپ میرے لیے  فلاں چیز خرید لو  تو یہ توکیل (وکیل بنانے) کا معاملہ ہے، یعنی پہلے شخص نے دوسرے کو اپنا وکیل بالشراء بنایا ہے، اور وکالت جس طرح اجرت کے بدلے ہوتی ہے اسی طرح بطورِ تبرع بھی ہوتی ہے، اور بطورِ وکیل کوئی کام کرنے پر وکیل کو اجرت لینے کا حق اس وقت ہوتا ہے جب وکالت کے وقت صراحۃً  اجرت کی شرط لگالی گئی ہو یا پھر یہ دوسرا آدمی (وکیل) معروف اجرت کے بدلے ہی کام کرنے میں مشہور ہو یعنی اس کا پیشہ ہی یہ ہو کہ وہ اجرت کے بدلہ کام کر کے دیتا ہو، لیکن اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بھی نہ پائی جائے تو پھر وکیل کو مؤکل سے اجرت لینے کا حق نہیں ہے۔

لہٰذا سوال میں پوچھی گئی  صورت  میں اگر معاہدہ ہو  اجرت متعینہ  لینے کا یا عرف ہو یعنی یہ مشہور ہو ، یہ چیز لانے والا آدمی ابتدا  ہی میں اپنی محنت اور وقت کے بدلہ میں مؤکل سے اجرت طے کرلے تو پھر طے شدہ اجرت یا کمیشن وصول کرنا جائز ہوگا، یا اس شخص کے متعلق مشہور ہو کہ وہ یہ چیز اجرت کے بدلے ہی لوگوں کو لاکر دیتاہے (سپلائی کرتاہے) تو   متعینہ اجرت لینے کی اجازت ہوگی، اور اگر  اصیل(یعنی جس نے خرید نے کا کہا ہو)سے کچھ معاہدہ عرف نہ ہو تو پھر کسی قسم کا رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔

نیز مذکورہ معاملہ کا ایک  طریقہ یہ  بھی درست ہوگا کہ جو مال کسی دوسرے کو خریدکر دینا ہے اس سے یہ بات طے کرلیں کہ اگر آپ یہ چیز مجھ سے لیں گے تو میں اتنی رقم میں دوں گا، پھر وعدہ ہونے کے بعد وہ چیز خریدنے کے بعد قبضہ کرکے خریدار کو دے دیں۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".

(الکتاب الحادی عشر الوکالة، الباب الثالث،الفصل االاول،المادة:1467 ،ج:3، ص:573، ط:دارالجیل)

فتح القدیر میں ہے:

"ومن اشترى شيئًا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض."

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، فصل اشترى شيئا مما ينقل ويحول،ج:6، ص:510 ، 511،  ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101119

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں