بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مال حرام کا حکم


سوال

اگر  ہمیں معلوم ہو گیا کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام ہے ،اب ہم نے وہ پیسے استعمال کرلیے  تو اب کیا کریں ؟اور اگر وہ پیسے استعمال نہیں کیے ہوں تو اس کا کیا کریں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں حرام مال کا حکم یہ ہے کہ اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردیا جائے، اگر ہ مال استعمال کرلیا ہے تو اتنی رقم صدقہ کرنا ضروری ہے۔

نیٹ ورک مارکیٹنگ کے ناجائز ہونے کے بارے میں مزید تفصیلات یہاں ملاحظہ فرمائیں:

نیٹ ورک مارکیٹنگ(Network Marketing) کا حکم

فتاوی شامی میں ہے :

"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

(5/99،مطلب فيمن ورث مالا حراما ،ط: سعيد)

معارف السنن میں ہے :

"قال شيخنا:ويستفاد من كتب فقهائناكالهدايه وغيرها:أن من ملك بملك خبيث ،ولم يمكنه الرد إلي المالك ،فسبيله التصدق علي الفقراء....قال:والظاهر أن المتصدق بمثله ينبغي أن ينوي به فراغ ذمته ،ولايرجو به المثوبة".

(أبواب الطهارة ،باب ماجاء:لاتقبل صلاة بغير طهور ، 1 /34 ط: المكتبة  الاشرفيه )

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408100995

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں