بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ماہِ رجب میں مخصوص مقدار میں سورہ ملک پڑھنے کا حکم


سوال

رجب المرجب میں سورہ  ملک کا خاص مقدار میں اہتمام کیا جاتا ہے،  اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سورہ ملک کے فضائل کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے بعض تو مطلق ہیں یعنی کسی خاص وقت کی قید نہیں ہے، جب کہ بعض احادیث میں رات کو پڑھنے کا ذکر ہے، مثلاً یہ کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سورہ ملک پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے۔ لہٰذا  رات کو پڑھنے کی صورت میں دونوں طرح کی احادیث پر عمل ہوجائے گا، البتہ صورتِ مسئولہ میں ماہِ رجب میں مخصوص مقدار میں سورہ ملک کو پڑھنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌إن ‌سورة ‌من ‌القرآن ‌ثلاثون ‌آية شفعت لرجل حتى غفر له، وهي سورة تبارك الذي بيده الملك»: «هذا حديث حسن»."

(أبواب فضائل القرآن، ‌‌باب ما جاء في فضل سورة الملك، ج:5، ص:17، ط:دار الغرب الإسلامي)

وفيه أيضاً:

"عن ‌جابر : «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ‌لا ‌ينام ‌حتى ‌يقرأ {الم * تنزيل}، و {تبارك الذي بيده الملك}»."

(أبواب فضائل القرآن، ‌‌باب ما جاء في فضل سورة الملك، ج:5، ص:17، ط:دار الغرب الإسلامي)

البحر المحیط میں ہے:

"(ومنها): أن البدع التي لا أصل لها من الكتاب والسنة شر الأمور، وأنها هي الضلالة بعينها، فيجب اجتنابها، والحذر منها، والبعد عن أهلها، حتى لا يقع العاقل في مهواتها، فيكون مأواه نار جهنم وبئس المصير....(ومنها): التزام الكيفيات والهيئات المعينة؛ كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد، واتخاذ يوم ولادة النبي -صلى الله عليه وسلم عيدا، وما أشبه ذلك.

(‌ومنها): ‌التزام ‌العبادات المعينة في أوقات معينة، لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة؛ كالتزام صيام يوم النصف من شعبان، وقيام ليلته....وأيضا فإن صاحب البدعة إنما يخترعها ليضاهي بها السنة حتى يكون ملبسا بها على غيره، أو تكون هي مما تلتبس عليه بالسنة؛ إذ الإنسان لا يقصد الاستتباع بأمر لا يشابه المشروع؛ لأنه إذ ذاك لا يستجلب به في ذلك الابتداع نفعا، ولا يدفع به ضررا، ولا يجيبه غيره إليه.ولذلك تجد المبتدع ينتصر لبدعته بأمور تخيل التشريع، ولو بدعوى الاقتداء بفلان المعروف منصبه في أهل الخير."

(كتاب الجمعة، باب بيان كون الصلاة قصدا، والخطبة قصدا، وكيفية خطبته -صلى الله عليه وسلم، ج:17، ص:269۔273، ط:دار ابن الجوزي)

کفایت المفتی میں ہے:

سوال:(2) ماہ رجب میں چالیس مرتبہ سورہ ملک پڑھ کر کھانے پر فاتحہ دیتے ہیں، اور اس کا نام تبارک کا کھانا رکھا ہے ، کیا اس کا ثبوت ہے؟

جواب:(2)اس عمل کا بھی کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے۔

(کتاب الحظر والاِباحۃ، پہلا باب مذہبیات وعبادات، ج:9، ص:63۔64، ط:دارالاِشاعت)

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے؛

سوال: ماہ رجب میں اکثر اصحاب مردہ کو بذریعہ تبارک ثواب پہنچایا کرتے ہیں اس کی کچھ اصل ہے یا نہیں؟ اور طریقہ صحیح کیا ہے؟

الجواب: اس کی کچھ اصل نہیں ہے، بلا کسی قید کے جس دن چاہے فقراء کو کھانا وغیرہ کھلاکر اور نقد دے کر ثواب میت کو پہنچادیا جاوے۔

(کتاب الجنائز، ماہ رجب میں ایصالِ ثواب، ج:5، ص:294، ط:دار الاِشاعت)

فقط واللہ اَعلم


فتوی نمبر : 144507101913

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں