بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

لے پالک کےلیےوصیت / دوبطن کا مناسخہ


سوال

ایک مرحومہ خاتون کی ملکیت میں چالیس لاکھ روپے ہیں،اس کی اولاد نہیں ہے، صرف ایک منہ بولی بیٹی ہے اور اس خاتون کے دو بھائی حیات ہیں، شوہر زندہ تھا ،اہلیہ پہلے فوت ہوچکی ، اور جب شوہر کا انتقال ہو ا اس وقت اس شخص کی ایک بہن زندہ تھی ،میاں بیوی نے اپنی ملکیت منہ بولی بیٹی کے لیے وصیت کی ہے، اب منہ بولی بیٹی اور مرحومہ کے دو بھائیوں کو اور مرحوم شوہر کی بہن کو مرحومہ کی میراث میں سے کتنا حصہ ملے گا؟ 

جواب

1:  واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے انسان کو اپنی زندگی میں  اپنے مال میں ہر جائز تصرف کا پورا حق دیا ہے اور  اپنے ورثاء کے علاوہ کے لیے  ایک تہائی مال کے حوالہ سے  وصیت کرنے کا محدود اختیار بھی  دیا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ میاں اور بیوی دونوں نے اپنی لے پالک کے لیے وصیت کی ہے لہذا دونوں کے حقوق متقدمہ ادا کرنے کے بعد  جتنی رقم باقی بچ جائے اس میں  سے ایک تہائی کی رقم میاں  بیوی کی وصیت کے مطابق میاں بیوی کی منہ بولی بیٹی کو اداکی جائے گی اس کے بعد جتنی رقم بچ  جائے وہ  باقی ورثا ء میں تقسیم کی جائے گی ۔

2: مکمل ترکہ سے ایک تہائی وصیت کے مطابق نکالنے کے بعد باقی ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ باقی منقولہ وغیر منقولہ ترکہ  کو (4)حصوں میں تقسیم کر کے مرحومہ کے ہرایک بھائی کو ایک حصہ  اور مرحومہ کے شوہر کی بہن کو2حصے ملیں گے ۔

صورتِ تقسیم یہ ہوگی :

میت  (مرحومہ خاتون)2/ 4

شوہر بھائی بھائی 
11
22
فوت شدہ11

میت(مرحومہ کا شوہر)2رد1 مف2

بہن
1
2

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے ہر ایک بھائی کو 25فیصد اور مرحومہ کے شوہر کی بہن کو50فیصد ملیں گے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) يعني يعتبر كونه وارثه أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية".

(کتاب الوصایا، 6 /650 /651 ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية".

(کتاب الوصایا ، الباب الأول في تفسير الوصية 6 / 90 ط: مکتبه ماجدیه)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144410100860

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں