بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

لبابہ، عنائزہ، فلذہ کے معنی اور نام رکھنا


سوال

لبابہ، عنائزہ، فلذہ نام رکھ سکتے ہیں اور ان کے معنی کیا ہیں؟

جواب

لبابہ  نام رکھنا درست ہے۔ اس نام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔  اس کےمعنی  ہیں: عقل مند۔

  عنائزہ عربی زبان میں ’’عنیزۃ‘‘ کی جمع ہو تو اس کا معنی ہے: بہت دور ہونے والی عورتیں۔ اور  ’’عنز‘‘  عربی زبان میں بکری کو کہتے ہیں، اس کی جمع ’’عناز‘‘ بھی آتی ہے۔ یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے، اس کی جگہ کوئی اچھا بامعنی نام رکھ لیں۔

فِلْذَہ  (ف کے نیچے زیر، اور ذال  کے ساتھ) کے ساتھ اس کے معنی ہیں: جگر، گوشت کا ٹکڑا، سونے اور چاندی کا ٹکڑا۔ (ج: فلذ، افلاذ)، اور  (زا کے ساتھ) الفلز کے معنی: ایک کیمیاوی عنصر جس میں معدنیاتی چمک اور حرارت وبجلی  کو منتقل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، چمک دار دھات، بھاری اور سخت مضبوط   آدمی۔ فلذہ  ( ذال کے ساتھ) لڑکی کا نام رکھنا درست ہے۔

 معرفة الصحابة میں ہے:

لبابة بنت أبي لبابة أدركت النبي صلى الله عليه وسلم، ولها ذكر فيما ذكرها المتأخر، ولم يزد عليه.

(ج: 4، صفحہ: 3437، ط: دار الوطن للنشر، الرياض)

المعجم الوسیط  میں ہے:

لبابة صار ذا عقل فهو لبيب (ج) ألباء وبالمكان لبا ولبوبا أقام به ولزمه فهو لب (وصف بالمصدر) وفلانا ضرب لبته واللوز كسره واستخرج لبه.

(باب الام، ج: 2، صفحہ: 811، ط: دار الدعوة)

وفیہ ایضاً:

(الفلذة) القطعة من الكبد واللحم والذهب والفضة ( ج ) فلذ وأفلاذ وأفلاذ الأكباد الأولاد وأفلاذ الأرض كنوزها. (الفولاذ) نوع من الصلب متين جدا ويصنع بخلط الصلب بعناصر أخرى ( مج ). ( المفلوذ ) سيف مفلوذ مطبوع من الفولاذ.
(الفلز) عنصر كيماوي يتميز بالبريق المعدني والقابلية لتوصيل الحرارة والكهربا ومن الرجال الشديد الغليظ الصلب تشبيها له بها والبخيل المتشدد تشبيها له بها ليبسه أو لبعده عن طالبيه والضريبة تجرب عليها السيوف.

(باب الفاء، ج: 2، صفحہ: 700، ط:  دار الدعوة)

لسان العرب میں ہے:

عنزالعَنْزُ: الماعِزَةُ، وهي الأُنثى من المِعْزَى والأَوْعالِ والظِّباءِ، والجمع أَعْنُزٌ وعُنُوزٌ وعِنازٌ، وخص بعضهم بالعِنازِ جمع عَنْزِ الظِّباءِ؛ وأَنشد ابن الأَعرابي: أبُهَيُّ، إِنَّ العَنْزَ تَمْنَع رَبَّها مِن أَنْ يُبَيِّتَ جارَهُ بالحائِل أَراد يا بُهَيَّةُ فرخَّم، والمعنى أَن العنز يتبلغ أَهلُها بلبنها فتكفيهم الغارةَ على مال الجار المستجير بأَصحابها.وحائل: أَرض بعينها، وأَدخل عليها الأَلف واللام للضرورة، ومن أَمثال العرب: حَتْفَها تَحْمِلُ ضأْنٌ...الخ

( فصل العین المھملۃ، ج: 5، صفحہ: 381، ط: دار صادر - بيروت)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200802

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں