بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے بعد لڑکے والوں کا رخصتی میں تاخیر کرنا


سوال

ہماری ایک کزن ہیں ،جن کے نکاح کو چار سال ہوگئے ہیں لیکن لڑکے والوں کی لاپرواہی بے توجھی کی وجہ سے اس کزن کی رخصتی رکی ہوئی ہے۔ لڑکا باہر ہوتا ہے ،اس کے گھر والے اس کا کوئی رابطہ نمبر بھی نہیں دیتے اور ناہی اس لڑکے نے کبھی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ میری کزن کے گھر والے بدنامی کے ڈر سے چپ ہیں اور صبر کا کہتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں شرعی لحاظ سے کیا ہونا چاہیے۔ لڑکی کی عمر 24 سال ہے۔ 

جواب

واضح رہے کہ نکاح ہونے کے بعد حتی الامکان رخصتی میں بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ شریعتِ مطہرہ میں بالغ ہونے کے بعد جلد نکاح کرنے کے جو مقاصد ہیں (مثلاً عفت و پاک دامنی کا حصول) وہ رخصتی سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں، البتہ کسی معقول عذر (مثلاً رہائش کا انتظام نہ ہونے ) کی بنا  پراگر رخصتی میں کچھ تاخیر ہوجائے تو اس میں شرعاً حرج نہیں ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں جب آپ کی عزیزہ مذکورہ لڑکی کا نکاح ہوچکا ہے اور نکاح کوچار سال کا عرصہ بھی گزر چکا ہے  ،تو لڑکے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جلد از جلد لڑکی کو اپنے ہاں بسانے کا بندوبست کریں۔نیز اس صورت میں چونکہ تاخیر شوہر کی جانب سے ہورہی اس لیے شرعاً اس لڑکی کاخرچہ شوہر کے ذمہ لازم ہے۔لڑکے والوں کا بلاوجہ تاخیر کرنا اور جواب نہ دینا یہ رویہ شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے۔اگر لڑکے والے بسانے کا انتظام نہیں کرتے اور تاخیر کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں تو خاندان کے بڑوں کو بٹھاکر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیے۔لڑکے والوں پر لازم ہے کہ یا تو لڑکی کی رخصتی کرواکر اپنے ہاں اسے بسالیں اور اگر ایسا نہیں کرتے تو مناسب طریقے سے لڑکی والوں کو جواب دے دینا چاہیے، نکاح کے بعد اتنے طویل عرصے تک رشتے کو یوں معلق رکھنا شرعاً واخلاقاً درست نہیں ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن علي رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يا علي ثلاث لا تؤخرها الصلاة إذا أتت والجنازة إذا حضرت والأيم إذا وجدت لها كفؤا» . رواه الترمذي."

(کتاب النکاح ،ج:1،ص:192،ط:المکتب الاسلامی)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(لا تؤخرها) : فإن في التأخير آفات، بل تعجل فيها، وهذه الأشياء مستثناة من الحديث المشهور: «العجلة من الشيطان»۔۔(والأيم) : بتشديد الياء المكسورة أي: المرأة العزبة ولو بكرا (إذا وجدت) : أنت أو وجدت هي (لها كفؤا) : قال الطيبي: الأيم من لا زوج له رجلا كان أو امرأة، ثيبا كان أو بكرا، والكفؤ: المثل. وفي النكاح أن يكون الرجل مثل المرأة في الإسلام والحرية والصلاح والنسب وحسن الكسب والعمل."

(کتاب النکاح ،ج:2،ص:533،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311102023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں