بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

لاک ڈاؤن میں امام اور مؤذن کی تنخواہ کا حکم


سوال

لاک ڈاؤن میں امام اور مؤذن کی تنخواہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر امام اور مؤذن کو مقرر کرتے ہوئے یہ معاہدہ طے پایا ہو کہ جن دنوں میں مسجد میں اذان و اقامت نہیں دی جائے گی ان دنوں کی تنخواہ نہیں ملے گی اور لاک ڈاؤن کے دنوں میں مؤذن نے اذان نہیں دی اور امام نے نماز نہیں پڑھائی تو ایسی صورت میں امام و مؤذن تنخواہ کا مستحق نہیں ہوگا۔ اور اگر تقرری کے وقت ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا اور حکومتی پابندیوں کی بنا پر مسجد میں اذان و اقامت دینے کی اور باجماعت نماز کی نوبت نہیں آسکی یا امام و مؤذن نے اپنے فرائض انجام دیے تاہم انتظامی سختی کی وجہ سے مقتدیوں کی عمومی شرکت نہیں ہوسکی تو شرعًا امام و مؤذن کی تنخواہ روکنا درست نہیں ہے،ان کو تنخواہ مکمل ادا کی جائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201427

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں