بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

لمپی جلد بیماری والے جانور کی قربانی کا حکم


سوال

آج کل جانوروں میں لمپی اسکن بیماری چل رہی ہے ، ایسے جانوروں کی قربانی کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  سوال میں ذکر کردہ بیماری   اگر کسی جانور میں ہوتو اسے قربانی کے لیے نہ خریدا جائے،اور اگر کسی نے صحیح سالم جانور خرید لیاہے، اور بعد میں یہ بیماری ظاہر ہوئی ہے، تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس بیماری کی وجہ سے صرف کھال کا ظاہری حصہ متاثر ہوا ہے، اس کا اثر گوشت تک نہیں پہنچا، تو اس جانور کی قربانی جائز ہے،لیکن اگر یہ بیماری جسم کے اندر پھیل گئی، اور اس کااثر گوشت  تک پہنچ گیا ہےتو اس کی قربانی جائز نہیں،ایسی صورت میں صاحبِ استطاعت شخص  پراس جانور کی جگہ دوسرا جانور لے کر قربانی کرنا ضروری ہوگا،اور اگر استطاعت نہ ہو تو پھر اسی جانور کو ذبح کرنا کافی ہوجائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وأما صفته) : فهو أن يكون سليما من العيوب الفاحشة، كذا في البدائع."

(کتاب الأضحیة ، الباب الخامس فی بیان محل اقامة الواجب جلد ۵ ص : ۲۹۷ ط : دارالفکر)

الدر المختار میں ہے:

"(ولو) (اشتراها سليمة ثم تعيبت بعيب مانع) كما مر (فعليه إقامة غيرها مقامها إن) كان (غنيا، وإن) كان (فقيرا أجزأه ذلك) وكذا لو كانت معيبة وقت الشراء لعدم وجوبها عليه بخلاف الغني."

(کتاب الأضحیة جلد ۶ ص : ۳۲۵ ط : دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144312100274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں