بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

لائٹ بند کرکے (اندھیرے میں) فجر کی نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں


سوال

لائٹ آف کرکے فجر کی نماز ادا کرنے کا حکم کیا ہے ؟برائے مہربانی بالدلائل بتائیں۔

جواب

واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روشنی اور اندھیرے، دونوں میں نماز پڑھنا ثابت ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں لائٹ/روشنی بند کرکے  اندھیرے میں  کوئی بھی نماز پڑھنا درست ہے۔

حديث شريف ميں ہے:

"عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، أنها قالت: «كنت ‌أنام ‌بين ‌يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجلاي، في قبلته فإذا سجد غمزني، فقبضت رجلي، فإذا قام بسطتهما»، قالت: والبيوت يومئذ ليس فيها مصابيح".

(كتاب الصلاة، باب الصلاة علي الفراش، ج:1، ص:86، ط:السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌رجل صلى في المسجد في ليلة مظلمة بالتحري فتبين أنه صلى إلى غير القبلة جازت صلاته".

(كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة، الفصل الثالث في استقبال القبلة، ج:1، ص:64، ط:رشيدية)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(ولها آداب) تركه لا يوجب إساءة ولا عتابا كترك سنة الزوائد، لكن فعله أفضل (نظره إلى ‌موضع ‌سجوده حال قيامه، وإلى ظهر قدميه حال ركوعه وإلى أرنبة أنفه حال سجوده، وإلى حجره حال قعوده. وإلى منكبه الأيمن والأيسر عند التسليمة الأولى والثانية) لتحصيل الخشوع....الخ".

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة،‌‌ آداب الصلاة، ج:1، ص:477-478، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503101886

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں