بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

لیڈو کی خرید و فروخت


سوال

لیڈو کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے اور گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرنے کا حکم دیا ہے اور ’’لڈو‘‘  کی خرید وفروخت  میں بھی ایک مکروہ کام میں تعاون  کرنا پایا جاتا ہے، اس لیے اس کی خرید و فروخت  مکروہ ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں ۔

{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلاتَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]

ترجمہ: اور ایک دوسرے کا تعاون کرو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو، اور اللہ کا لحاظ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ سخت بدلہ دینے والا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے