بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

بلا عذر لیٹ کر قرآن پڑھنا


سوال

 کیا بلا عذر  لیٹ کر قرآن پڑھنا جائز ہے؟

جواب

لیٹ کر قرآن  پاک کی تلاوت کرنا جائز ہے ، خواہ  کسی عذر  کی وجہ سے لیٹا ہو یا بلاعذر  کے،   البتہ اگر ہاتھ  میں قرآنِ  پاک ہو  اور  دیکھ کر تلاوت کر رہا ہو  تو پھر لیٹ کر تلاوت کرنا بے ادبی ہے۔ اور اگر لباس مکمل نہ ہو  یا سونے کے لیے ایسا لباس پہن کر لیٹا ہو جو پاک نہ ہو تو اس حالت میں تلاوت کرنا مکروہ ہوگا۔

تفسیر القرطبی   آیت 191 سورۃ 2:

{الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ}ذكر تعالى ثلاث هيئات لايخلو ابن آدم منها في غالب أمره , فكأنها تحصر زمانه .
ومن هذا المعنى قول عائشة رضي الله عنها : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه ... " وعلى جنوبهم " في موضع الحال ; أي ومضطجعين ومثله قوله تعالى : " دعانا لجنبه أو قاعدا أو قائما " [ يونس : 12 ] على العكس ; أي دعانا مضطجعا على جنبه.

 فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 

’’لابأس بقراء القرآن إذا وضع جنبه علی الأرض، ولکن ینبغي أن یضم رجلیه عند القراءة، کذا في المحیط. لا بأس بالقراء ة مضطجعاً إذا أخرج رأسه من اللحاف؛ لأنه یکون کاللبس، وإلا فلا، کذا في القنیة‘‘. 

 

(الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهية، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح وقراءة القرآن والذکر...، (5/ 316) ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201289

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں