بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

لیٹ کر قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور موبائل میں جانداروں کی تصاویر ہونے کی وجہ سے تلاوت کرنے کا حکم


سوال

1. اگر میں لیٹ کر موبائل میں قرآن پاک کی تلاوت کرسکتا ہوں یا نہیں؟

2. موبائل میں قرآن کا ہونا اور تلاوت کرنا بہتر ہے یا کتابی شکل میں قرآن کا تلاوت کرنا بہتر ہے ؟ ثواب میں کوئی فرق پڑھ سکتا ہے کہ نہیں اس حوالے سے ذرا آگاہ کیجئے گا؟

3. اگر موبائل میں موجود کوئی فلم یا دیگر غیر شرعی تصویر ،گیم وغیرہ موجود ہو تو موبائل سے قرآن کی تلاوت یا موبائل میں قرآن رکھنا جائز ہے کہ نہیں ؟

جواب

1. بہتر تو ہے یہ کہ بیٹھ کر آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے قرآن پاک کی تلاوت کریں ،لیکن اگر بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرنے پر قدرت نہ ہو تو کوشش کرکے ٹیک لگا کر بیٹھ کر تلاوت کریں، لیکن اگر ٹیک لگا کر بیٹھنے میں بھی مشقت ہو تو لیٹ کر باوضو لباس اور ستر وغیرہ کا لحاظ رکھتے ہوئے اور دونوں پاؤں کو ملا کر لحاف سے سر نکال کر قرآن پاک کی تلاوت کرسکتے ہیں۔

2 . قرآنِ مجید مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے، اس لیے مصحف کو دیکھنا، اس کو چھونا اور اس کو اٹھانا  یہ اس کا احترام ہے، اور اس میں معانی میں زیادہ تدبر کا موقع ملتا ہے، اور یہ سب ثواب کا ذریعہ ہے، ظاہر ہے کہ یہ سب باتیں موبائل میں مکمل  حاصل نہیں ہوتیں، اس لیے جہاں تک ہوسکے مصحف ہی سے پڑھا جائے، اگر کبھی ضرورت ہو تو موبائل سے پڑھ لیں، ورنہ عام حالات خصوصاً مسجد میں جہاں سہولت سے قرآن میسر بھی ہیں وہاں موبائل کے بجائے مصحف سے قرآنِ مجید پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے ، یاد رہے موبائل میں دیکھ کر قرآنِ مجید پڑھنا جائز ہے۔ چوں کہ قرآنِ کریم کو دیکھ کر ہاتھ لگائے بغیر زبانی تلاوت کرنا جائز ہے، اس لیے موبائل فون میں دیکھ کر بے وضو قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا جائز ہے، اگر اسکرین پر قرآن کریم کھلا ہوا ہو تو بے وضو موبائل کو مختلف اطراف سے چھونا اور پکڑنا بھی جائز ہے، البتہ اسکرین کو بغیر وضو چھونا جائز نہیں ہے، کیوں کہ جس وقت قرآنِ کریم اسکرین پر کھلا ہوا ہوتا ہے اس وقت اسکرین کو چھونا قرآن کو چھونے کے حکم میں ہوتا ہے۔

3.باقی اسمارٹ فون کا صرف جائز استعمال کرنا چاہیے، اس  سے جان دار کی تصاویر لینا یا اس میں محفوظ رکھنا، یا جان دار کی ویڈیوز بنانا یا محفوظ رکھنا یا دیکھنا، یا فلمیں دیکھنا یا محفوظ رکھنا، یا موسیقی سننا یا محفوظ رکھنا سب ناجائز ہے، لہٰذا اپنے موبائل کو ان خرافات سے پاک رکھنا چاہیے، نہ یہ کہ ان اشیاء کو تو نہ چھوڑے اور قرآنِ پاک کی تلاوت  چھوڑ دے، اگر موبائل میں قرآنِ پاک کی تلاوت کیا کرے تو ممکن ہے کہ اس حیا کی وجہ سے فلم بینی چھوڑ دے کہ جس آلے کے ذریعے قرآنِ پاک کی تلاوت کرتا ہوں، اسی میں گناہ کی اشیاء کیوں دیکھوں!  

مشكاة المصابيح میں ہے :

"وعن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قراءة ‌الرجل ‌القرآن ‌في ‌غير ‌المصحف ‌ألف ‌درجة وقراءته في المصحف تضعف عل ذلك إلى ألفي درجة."

(‌‌‌‌كتاب فضائل القرآن، الفصل الثالث، ج:1، ص:666، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

"الفتاوی الهندية" میں ہے:

"رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة؛ لأن تعظيم القرآن والفقه واجب، كذا في فتاوى قاضي خان ... لا بأس بقراءة القرآن إذا وضع جنبه على الأرض ولكن ينبغي أن يضم رجليه عند القراءة، كذا في المحيط. لا بأس بالقراءة مضطجعا إذا أخرج رأسه من اللحاف؛ لأنه يكون كاللبس وإلا فلا، كذا في القنية."

(کتاب الکراهية، الباب الرابع، ج:5، ص:316، ط:رشیدیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(‌و) ‌يحرم (‌به) ‌أي ‌بالأكبر (‌وبالأصغر) ‌مس ‌مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار."

(كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج:1، ص:173، ط:سعید)

 فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144411100101

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں