بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

لڑکی سے پوچھے بغیر والد نکاح کرادے


سوال

 نکاح کے لیے لڑکی کے والد کا بیان کافی ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اگر لڑکی راضی ہو تو پھر لڑکی سے پوچھنا لازمی ہے یا نہیں ؟

جواب

نکاح منعقد ہونے کے لیے لڑکی کی طرف سے خود یا وکیل کے ذریعے ایجاب یا قبول ضروری ہے،  تاہم احادیثِ مبارکہ میں لڑکی سے پوچھے جانے کے بعد اس کی خاموشی کو اس کی رضامندی قرار دیا گیا ہے،  لیکن اگر لڑکی سے پوچھا ہی نہ جائے اور اس کا والد نکاح کرادے تو اگر لڑکی نابالغ ہو تو اس کا نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اور اگر  بالغہ ہو تو ایسی صورت میں نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے، اگر وہ قولاً یا عملاً اجازت دے دے تو نکاح منعقد سمجھا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے