بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو تو روزوں کا حکم


سوال

 ایک بچی ہے جو اس سال رمضان سے پہلے بالغ ہو گئی  ہے اور اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے صرف چند مخصوض اشخاص اپنے والد والدہ اور قرآن پڑھانے  والے استاد کو کسی حد تک پہچان لیتی ہے اس کے والدین نے روزہ رکھنے سے اسے منع کیا اب کیا وہ کفارہ ادا کریں گے یا بچی قضا کرے گی؟ 

جواب

اگر ذہنی توازن ٹھیک نہ  ہونےکی وجہ سے   وہ  نماز روزے  کی تمیز  بالکل ہی نہیں رکھتی    تو پھر وہ اس حالت میں نماز روزے کی مکلف ہی نہیں ہے، اس لیے اس حالت میں جتنی نمازیں اور روزے چھوٹے ہوں ان کا کوئی فدیہ یا کفارہ کسی  کے ذمہ لازم نہیں ہوا اور اگر روزے نماز  اور ان کی فرضیت کو سمجھتی ہےتو شرعا قضا لازم ہوگی ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109203241

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں