بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1446ھ 25 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا نام ’’عنائزہ‘‘ رکھنے کا حکم


سوال

لڑکی کے لیے عنائزہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’عنائزہ‘‘ یہ ’’عَ نَ زَ‘‘ سے ہے، اس کی جمع ’’عنیزۃ‘‘  اور ’’عناز‘‘ بھی آتی ہے۔’’عنز‘‘  عربی زبان میں بکری کو کہتے ہیں، اس کے ایک معنی الگ ہونا، دور ہونا کے بھی آتے ہیں، عربی کے لحاظ سے ایسی عورت جو سب سے الگ تھلگ رہے اسے عنیزہ کہا جاتا ہے، بہر صورت یہ نام مناسب نہیں ہے،اس کی جگہ صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام یا کوئی اچھا بامعنی نام رکھ لیں۔

ہمارے جامعہ کی ویب سائٹ پر لڑکیوں کے لیے اُمّہات المومنین، صحابیات کے ناموں کے ساتھ اچھے با معنی  نام موجود ہیں، درج ذیل لنک کے ذریعہ نام کا انتخاب کیا جاسکتا ہے:

لڑکیوں کے اسلامی نام

تاج العُروس میں ہے:

"وعنز عنه عنوزا: عدل ومال، وقال ابن القطاع تنحى. عنز فلانا عنزا: طعنه بالعنزة".

(باب الزاي، فصل العين مع الزاي، عنز، ج:15، ص:247، ط:دار الهداية، ودار إحياء التراث وغيرهما)

القاموس الوحید میں ہے:

" عَنَزَعنهُ - عَنْزاً و عُنُوْزاً: الگ ہونا، دُور ہونا۔

اعْتَنَزَ: دُور ہونا۔

اعْتَنَزَ عَنِ الشئی: الگ ہونا، چھوڑنا۔

عَنَزَ عَنْزاً: نیزہ یا چُھری مارنا۔

العَنْزُ: (1) بکری، (2) ہرنی۔ ج:أَعْنُزٌ وعُنُوزٌ (3) پانی میں چٹان (4) ریتلی اور پتھریلی زمین۔

العَنْزَۃُ: نیچے پھل(دھاری دار لوہا) لگا ہوا ڈنڈا، چھڑی جس سے بوڑھے ٹیک لگاتے ہیں۔ (2) کلہاڑی کی دھار۔ ج: عَنَزٌ و عَنَزَاتٌ."

(بابُ العَیْن، ع___ ن، ص:910، ط:ادارہ اسلامیات)

لسان العرب میں ہے:

" العَنْزُ : الماعِزَةُ ، وهي الأُنثى من المِعْزَى والأَوْعالِ والظِّباءِ ، والجمع أَعْنُزٌ وعُنُوزٌ وعِنازٌ ، وخص بعضهم بالعِنازِ جمع عَنْزِ الظِّباءِ،  وأَنشد ابن الأَعرابي:

أبُهَيُّ، إِنَّ العَنْزَ تَمْنَع رَبَّها مِن أَنْ يُبَيِّتَ        جارَهُ بالحائِل أَراد يا بُهَيَّةُ فرخَّم

والمعنى أَن العنز يتبلغ أَهلُها بلبنها فتكفيهم الغارةَ على مال الجار المستجير بأَصحابها .

وحائل : أَرض بعينها ، وأَدخل عليها الأَلف واللام للضرورة ، ومن أَمثال العرب : حَتْفَها تَحْمِلُ ضأْنٌ ...".

(‌‌[ز]، ‌‌فصل العين المهملة، ج:5، ص:381، ط:دارصادر)

وفیہ ایضاً:

‌"وعنيزة اسم امرأة تصغير عنزة. وعنزة وعنيزة: قبيلة. قال الأزهري: عنيزة في البادية موضع معروف، وعنيزة قبيلة. قال الأزهري: وقبيلة من العرب ينسب إليهم فيقال فلان العنزي، والقبيلة اسمها عنزة....

‌والعنزة: عصا في قدر نصف الرمح أو أكثر شيئا فيها سنان مثل سنان الرمح، وقيل: في طرفها الأسفل زج كزج الرمح يتوكأ عليها الشيخ الكبير".

([ز]، ‌‌فصل العين المهملة، ج:5، ص:384، ط:دار صادر)

المؤتلف والمختلف میں ہے:

"وأمَّا ‌عنيزة ، فهي التي ذكرها امرؤ القَيْس في قصيدته قفا نبك:

ويوم دخلت الخدر خدر ‌عنيزة … فقالت لك الويلات إنك مرجلي".

(‌‌باب عنترة وعتيرة وعنيْزة، ج:3، ص:1725، ط:دار الغرب الاسلامی)

 فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502102014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں