بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا نام زِمل رکھنا


سوال

"زِمل" کا معنی کیا ہے؟ اور کیا لڑکی کا نام زِمل رکھنا درست ہے؟ اور منہا کا معنیٰ بھی بتادیں۔

جواب

"زِمل"زاء"كے كسرہ اور" ميم "كے سكون كے ساتھ ہے، "زمل "کے کئی معانی ہیں: 1۔بوجھ، 2۔پیچھے سوار ہونے والا ، 3۔کمزور ، 4۔ سست و کاہل ، "زَمل/ زِمل"  ایک صحابی کا نام ہے، لیکن کسی صحابیہ عورت کا نام "زمل"نہیں ملا ہے، اس لیے لڑکی کا یہ نام نہ رکھا جائے ، بلکہ صحابیات کے ناموں میں  سے کسی صحابیہ کے ہم  نام رکھا جائے۔

"منها"کوئی نام يا مستقل لفظ   نہیں ہے، بلکہ یہ "من" حرف جر اور "ها" ضمير سے مركب ہے اور اس کا معنیٰ ہے ـ"اس سے"، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے۔   البتہ  "مِنْحَهْ " نام رکھا جاسکتاہے، اس کا معنی ہے:گفٹ ،تحفہ ، جیساکہ ''المعجم الوسیط'' میں ہے: "المنحة: العطية."

أسد الغابة في معرفة الصحابة میں ہے:

" ‌زمل بن عمرو وقيل: ‌زمل بن ربيعة، وقيل: زميل بن عمرو بن العنز بن خشاف بن خديج بن واثلة بن حارثة بن هند بن حرام بن ضنة بن عبد بن كبير بن عذرة بن سعد بن هذيم العذري، وفد إلى النبي صلى الله عليه وسلم روى هشام بن الكلبي، عن الشرقي بن القطامي، عن مدلج بن المقدام الغذري، عن عمه عمارة بن جزي، قال: قال ‌زمل: سمعت صوتا من صنم … وذكر الحديث.

ولما وفد إلى النبي صلى الله عليه وسلم وآمن به، عقد له رسول الله صلى الله عليه وسلم لواء على قومه، وكتب له كتابا، ولم يزل معه ذلك اللواء حتى شهد به صفين مع معاوية، وقتل ‌زمل يوم مرج راهط، ساق نسبه كما سقناه الكلبي والطبري."

(حرف الزاء، باب الزاي و الميم و النون: 2/320، ط: دار الکتب العلمية)

«البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج میں ہے:

"ابن ‌زِمْل الجهني بكسر الزاي، وسكون الميم، بعدها لام."

(کتاب الرؤيا: 37، 124، ط: دار ابن الجوزي)

کتاب العين  میں ہے:

"‌زمل: الدابة تزمل في عدوها ومشيها زمالا، إذا رأيتها تتحامل على يديها بغيا ونشاطا، قال  : تراه في إحدى اليدين زاملا والزاملة: البعير يحمل عليه الطعام والمتاع. والزميل: الرديف على البعير والدابة هكذا يتكلم به العرب. والازدمال: احتمال الشيء كله بمرة واحدة. .... والزميل: الرذل من الرجال والزميلة والزمال أيضا."

(حرف الزاي، باب الثنائي من الزاي: 7 /371، ط: دار ومكتبة الهلال) 

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311102083

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں