بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا نام ’’حمنہ‘‘ رکھنے کا حکم


سوال

’’حمنہ‘‘ نام کا معنی کیا ہے؟  یہ نام لڑکی کے لیے رکھا جا سکتا ہے ؟

جواب

"حَمنہ "  :حا  کے  زبر ، اور میم کے سکون اور نون کے زبر  کے ساتھ ہے،اس کا معنیٰ ہے’’چھوٹی چیچڑیاں‘‘( مصباح اللغات ص: ۱۷۸)، امّ المومنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کی بہن،  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی کا نام تھا،  اور وہ صحابیہ ہیں، اس  لیے  نسبت بابرکت ہونے کی وجہ سے ’’حَمنہ‘‘ نام رکھا جاسکتاہے، رکھا ہوا نام بدلنے کی ضرورت نہیں ، اگر آپ نے یہ نام رکھا نہیں ہے، تو بہتر یہ ہے کہ  ایسا نام رکھا جائے جو  صحابیات کرام رضوان اللہ علیہن  اجمعین کے ناموں میں سے  ہو اور اس کا معنیٰ بھی اچھا ہو۔

"الإصابة في تمييز الصحابة"میں ہے:

"‌حمنة ‌بنت ‌جحش الأسدية:أخت أم المؤمنين زينب وإخوتها ،تقدم نسبها في عبد الله بن جحش، وكانت زوج مصعب بن عمير، فقتل عنها يوم أحد، فتزوجها طلحة بن عبيد الله فولدت له محمدا وعمران. وأمهما وأم أختها زينب أميمة بنت عبد المطلب. قال أبو عمر: كانت من المبايعات، وشهدت أحدا، فكانت تسقي العطشى، وتحمل الجرحى، وتداويهم، وكانت تستحاض، كما أخرجه أبو داود والترمذي."

[حمنة بنت جحش، ج:8، ص:88، ط:دار الكتب العلمية]

لسان العرب میں ہے:

"حمن: الحمن والحمنان: صغار القردان، واحدته حمنة وحمنانة. وأرض محمنة: كثيرة الحمنان. والحمنان: ضرب من عنب الطائف، أسود إلى الحمرة . قليل الحبة، وهو أصغر العنب حبا، وقيل: الحمنان الحب الصغار التي بين الحب العظام. وقال الجوهري: الحمنانة قراد، وفي التهذيب: القراد أول ما يكون وهو صغير لا يكاد يرى من صغره، يقال له قمقامة، ثم يصير حمنانة، ثم قرادا، ثم حلمة، زاد الجوهري: ثم عل وطلح."

(حرف النون، فصل الحاء المهملة، ج:13، ص:128، ط: دار صادر۔بيروت)

مصباح اللغات میں ہے:

"الحمن والحمنان: چھوٹی چیچڑیاں، واحد:حمنة و حمنانة،اصمعی نے کہا کہ چیچڑی جب بہت چھوٹی ہو تو اس کو’’قمقامة‘‘ کہتےہیں، پھر ’’حمنان ‘‘پھر ’’قُراد‘‘ پھر ’’حَلَمة‘‘ پھر ’’عَلَّ‘‘ پھر ’’وطلح‘‘."

( مادہ:ح۔ م ۔ ل،صفحہ نمبر: ۱۷۸،ط:قدیمی کتب خانہ)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407100173

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں