بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا مسفرہ یا مستبشرہ نام رکھنا


سوال

کیا لڑکی کا نام ’’مسفرہ‘‘  یا ’’مستبشرہ‘‘  رکھ  سکتے ہیں؟ یہ دونوں الفاظ سورہ عبس کی آیات 37 اور 38 میں ہیں۔

جواب

’’مسفرہ‘‘  (مُسْفِرَهْ) عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کے معنی : روشن،چمک دار  اور مسرت کے ہیں ۔

مستبشرہ  (مُسْتَبْشِرَهْ) کا معنی : ’’خوش خبری دینے والی‘‘ کے آتے ہیں۔

 یہ دونوں نام رکھنا درست ہے۔

تاج العروس میں ہے :

"وفي البَصَائِر، والمُفْرَدات: والإِسْفَارُ يَخْتَصُّ باللَّون ، نحو : { وَالصُّبْحِ إِذَآ أَسْفَرَ } ( المدثر : 34 ) ، أَي أَشْرَق لَوْنُه . و : { وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ } ( عبس : 38 ) ، أَي مُشْرِقَةٌ مُضِيئَةٌ . وفي الأَساس : ومن المَجَاز : وَجْهٌ مُسْفِرٌ : مُشْرِقٌ سُروراً .  وفي التهذيب : أَسْفَرَ الصُّبحُ ، إِذا أَضاءَ إِضاءَةً لا يُشَكّ فيهِ ، ومنه قولُه صلى الله عليه وسلم ( أَسْفِرُوا بالفَجْرِ ، فإِنَّه أَعْظَمُ للأَجْرِ )". (12/40)

مُسْتَبْشِر: (معجم الغني):

"جمع: ون، ات. (فاعل مِن اِسْتَبْشَرَ). -جَاءَ مُسْتَبْشِراً وَهُوَ يُعْلِنُ لِلنَّاسِ خَبَراً سَارًّا: فَرِحاً، مَسْرُوراً- كَانَتْ مُسْتَبْشِرَةً مُسْتَرِيحَةً خَفِيفَةَ القَلْبِ وَالطَّوِيَّةِ". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201688

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے