بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کے اقرار سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے


سوال

السلام علیکم میری شادی ایک پٹہان خاندان میں ہوئی ہے۔ جب میرے گھر والے ان سے رشتہ مانگنے گئے تھے تو لڑکی کے والدمیرے سُسر نے اپنی بیٹی یعنی میری بیوی سے پوچھا تھا کہ بیٹی تمھارے لیئے یہ رشتہ آیا ہے تو اس وقت میری بیوی نے صاف انکار کر دیا تھا کہ مجھے یہ رشتہ منظور نہیں لیکن پھر اس کی والدہ میری ساس اور میری بہن جو کالج کے وقت کی میری بیوی کی دوست ہے نے اسے سمجھایا تو اس نے سوچا اور جب اطمینان قلب ہو گیا تو اس نے اپنی والدہ میری ساس کو ہاں کر دی۔میری ساس نے میرے سسر کو بتایا کہ لڑکی نے ہاں کر دی ہے۔اس کے بعد منگنی ہو گئی۔ منگنی کے ایک سال بعد میرا نکاح ہوا جو مسجد میں منعقد ہوا جس میں میرا بھائی،میرے والد اور لڑکی کی طرف سے اس کا والد بطور ولی موجود تھے۔ایجاب و قبول میں مجھ سے اور لڑکی کے والد سے پوچھا گیا اور ہم نے کہا کہ ہمیں قبول ہے۔میں نے اسی وقت نکاح نامے پر دستخط کر دیئے۔ نکاح کے اگلے روز لڑکی کے والد نے اسے کہا کہ اگر تمہیں یہ نکاح قبول ہے تو دستخط کر دو تو اس نے دستخط کر دیئےحق مہر پہلے بتا دیا تھا لیکن یہ نہیں بتایا کہ نکاح کس کے ساتھ ہے۔اس وقت بطور گواہ اس کی والدہ اور 3 بہنیں موجود تھیں۔کیا یہ نکاح صحیح ہے جس میں لڑکی سے بوقت نکاح اجازت نہیں لی گئی صرف ایک سال پہلے منگنی کی اجازت کو ہی کافی سمجھا گیا؟؟؟ اور نہ ہی کسی مرد گواہ کے سامنے پوچھا گیا؟؟؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کریں۔ جزاک اللہ خیراً احسن الجزاء۔

جواب

آپ کے سوال میں داخلی طور پر کچھ تضاد پایا جاتا ہے، جب مذکورہ لڑکی نے برضا ورغبت منگنی منظور کر لی تھی، اور یہ منگنی ایک سال تک برقرار بھی رہی ہے، تو اس کے بعد نکاح نامے پر دستخط کرواتے ہوئے لڑکی کو اس کے منگیتر کے سوا کس کے ساتھ بیاہا جا رہا تھا جس کے بارے میں اس کو معلوم نہہں تھا؟ سوال کی وضاحت کرکے دوبارہ ارسال کیجیے۔ فقط واللہ أعلمٍاضافہ از شعیب:بلال نے جو لکھا ہے وہ بھی درست ہے اور مزید یہ کہ نکاح پہلے ہورہا ہے اور اجازت بعد میں لی جارہی ہے ۔ شرعی نقطہ نظر سے تو اگر عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کے ولی نے بلااجازت پڑھایا تو نکاح فضولی ہوا ،پھر جب منکوحہ کو خبر ملی اور اس نے دستخط کرکے قبول کرلیا تو نکاح نافذ ہوگیا۔اب قانون اور شرع کی نگاہ میں لڑکی کا انکار ناقابل سماعت ہے۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


فتوی نمبر : 143503200032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے