بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

لڑکے کا لڑکی جیسی ہیئت وصورت اختیار کرنے کا حکم


سوال

 اللہ تعالیٰ نے انسان کو مرد اور عورت کی شکل میں پیدا کیا، آج کل جیسے یہ ٹرینڈ چل رہا ہے کہ ایک لڑکا پوری طرح سے میک اپ کر کے لڑکی بن جاتا ہے،اور ویڈیوز وغیرہ بناتا ہے ۔

(1)اب سوال یہ ہےکہ کیا ایک لڑکا لڑکی کی طرح میک اپ کرکے  رہ سکتا ہے ؟

(2)  لڑکا لڑکی کےکپڑے پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے؟ ایک راہ نمائی اور چاہیے تھی ،مجھے لڑکی کےکپڑے پہننے کی طرف بہت رغبت ہوتی ہے ،اور اس سے بچنے کی کوشش بھی کرتا ہوں،لیکن کبھی کبھی بہت نفس حاوی ہو جاتا ہے،تو لڑکا سے لڑکی بننے کی ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیتا ہوں ،اس کے متعلق کوئی شرعی حکم بتائیں۔

جواب

1-2واضح رہے کہ مرد کے لیے عورتوں کا مخصوص لباس پہننا یا ان جیسی ہیئت اختیار کرنا یاعورتوں کامردوں کی ہیئت اختیار کرنا یا ان  جیسا مخصوص لباس پہننا شرعاً ناجائز  اور گناہ کبیرہ ہے،اور یہ عقلاً بھی نہایت ہی مذموم عمل  ہے، حدیثِ مبارک میں ایسے لوگوں پر لعنت کی گئی ہے،چناں چہ حضرت ابوہریرہ  ؓ  فرماتے ہیں:”حضور اکرم ﷺ نے اس مرد پر لعنت فرمائی ہے جو عورت کا لباس پہنتا ہو اور اس عورت پر لعنت فرمائی جو مرد کا لباس پہنتی ہو“، ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے  مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں   لڑکےکالڑکی کی طرح میک اپ کرکے مکمل طورپرلڑکیوں والی زیب وزینت  اختیار کرنااوراس پر مزید گنا ہوں کا ارتکاب کرتے ہوۓ تصاویر اور ویڈیوز بناناازروئے شرع ناجائز اور حرام عمل ہے،ایسے شخص کو چاہیے کہ اس طرح کے برے افعال اورخیالات سے بالکلیہ اجتناب  کرے،اپنے اوقات کو کسی قیمتی  اور کارآمد مشغلے میں صرف کرے،اورعلماء،صلحاءاور بزرگان دین کی صحبت اختیار کرے۔

باقی لڑکی کے کپڑے پہن کر نماز پڑھنے سے نماز ہوجاتی ہے،لیکن مردوں  والے کپڑے موجود ہونے کے باوجود بلاوجہ،صرف غیر فطری شوق کی خاطر  اس طرح نہیں کرنا چاہیے،ایسے خیالا ت آبھی جائیں تو اپنے آپ کو کسی اورکام میں مشغول کرلینا چاہیے ۔ اور  جان دار کی تصویر پر مشتمل ویڈیوز  دیکھنا جائز نہیں ہے، لہٰذا اس سے بھی اجتناب کرے۔

 قرآنِ کریم میں ہے:

"فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (سورة الروم:الأية:30)."

ترجمہ:"سو تم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف رکھو الله کی دی ہوئی قابلیت کا اتباع کرو جس پر الله تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ۔الله تعالیٰ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو جس پر اس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے بدلنا نہ چاہیئے پس سیدھا دین یہی ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔(بیان القرآن)"

قرآن مجید میں ہے:

"وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا(سورة النساء، الأية:119)."

"ترجمۃ:اور میں ان کو گمراہ کروں گا اور میں ان کو ہوسیں دلاؤں گا اور میں ان کو تعلیم دوں گا جس میں وہ چوپایوں کے کانوں کوتراشا کریں گے اور میں ان کو تعلیم دوں گا جس سے وہ الله تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑا کرینگے ۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بناوے گا، وہ صریح نقصان میں واقع ہوگا ۔(بیان القرآن)"

صحیح بخاری میں ہے:

"عن علقمة، عن عبد الله:(‌لعن ‌الله ‌الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق الله تعالى)."

(كتاب اللباس، باب: المتفلجات للحسن، ج:5، ص:2216، ط: دار ابن كثير)

ترجمہ: "حضرت علقمہ نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ  سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ پاک لعنت بھیجتے ہیں گودنے اور گودوانے والیوں پر اور بال اُکھاڑنے اور اُکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان خلا پیدا کرنے اور کروانے والیوں پر جو زینت کے لیے ہو‘ کرتی ہوں، یہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی کرنے والیاں ہیں۔"

سنن الترمذی میں ہے:

"عن ابن عباس، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌المتشبهات ‌بالرجال ‌من ‌النساء ‌والمتشبهين بالنساء من الرجال»: «هذا حديث حسن صحيح."

(أبواب الأدب، ‌‌باب ما جاء في المتشبهات بالرجال من النساء، ج:5، ص:105، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)

فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"ويؤخذ منه أن ‌جناية ‌الإنسان ‌على ‌نفسه كجنايته على غيره في الإثم لأن نفسه ليست ملكا له مطلقا بل هي لله تعالى فلا يتصرف فيها إلا بما أذن له فيه."

(كتاب القدر، قوله باب من حلف على الشيء، ج:11، ص:539، ط: المكتبة السلفية)

احکام تجمیل النساء میں ہے:

"وقد رأی العلماء المعاصرون تحریمها ومنعها لدلالة النقل والعقل علی منعها.

 فأما النقل : فبقول اللّٰه عز وجل: { ولآمرنهم فلیغیرن خلق اللّه } [النساء : ۱۱۹] ووجه الدلالة من الآیة : أنها من سیاق الذم وبیان المحرمات التي یسول الشیطان للإنسان بفعلها، ومن هذه المحرمات تغییر خلق اللّٰه وهذه الجراحات تشتمل علی تغییر خلق الله والعبث فیهاحسب الهوی والرغبة ، فتکون العملیة والحال هذه مذمومة شرعًا ، ومن جنس المحرمات التي یسول بها الشیطان للإنسان.

ومن السنة یقول النبي ﷺ : ’’...والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللّٰه ...‘‘. [صحیح مسلم : ۲/۲۰۵] ووجه الدلالة: أنه ﷺ جمع بین تغییر الخلقة وطلب الحسن وکلا هذین المعنیین موجودان في الجراحة التحسینیة ، فإنها تغییر للخلقة من أجل الحسن  بل والزیادة فیه، فهي علی هذا داخلة في الوعید، ولایجوز أن تفعل."

(المبحث الثانی :جراحة التجمیل التحسینیة، ص:378، ط: داراحیاء اللغة العربیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101870

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں