بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

یاک اور لاما جانورکی قربانی کا حکم


سوال

اگر یاک کی قربانی ہو سکتی ہے تو کیا لاما کی قربانی بھی ہو سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی کے جانور شرعی طور پر متعین ہے،  جن میں اونٹ ،گائے، دنبہ ، بھیڑ ، بکرا، مینڈھا (مذکر ومؤنث ) شامل ہیں،بھینس گائےکی جنس میں سے ہے، لہذا اس کی قربانی بھی جائز ہے، اسی طرح آسٹریلین گائے بھی چوں کہ گائے ہے اس لیے اس کی قربانی بھی درست ہےان کے علاوہ کسی اور  جانور کی قربانی درست نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں لاما جو اونٹ کی  طرح  کا ایک وحشی جانور ہے (لیکن اونٹ کی  نسل میں داخل نہیں ہے)،اس   کی قربانی باوجود حلال جانور ہونے کے جائز نہیں  ۔

اسی طرح یاک    (جنگلی بھینسا) گائے یا بھینس کی نسل کا جانور ہے، اس کا گوشت کھانا تو مطلقًا حلال ہے،لیکن قربانی جائز نہیں ہےچوں کہ  وحشی جانوروں میں سے ہے،اور وحشی جانور کی قربانی جائز نہیں ہے،  وحشی جانوروں  کے مانوس ہونے یا نہ ہونے سے حکم میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق  میں ہے: 

"والأضحية ‌من ‌الإبل ‌والبقر والغنم)؛ لأن جواز التضحية بهذه الأشياء عرف شرعا بالنص على خلاف القياس فيقتصر عليها، ويجوز بالجاموس؛ لأنه نوع من البقر بخلاف بقر الوحش حيث لا يجوز التضحية به؛ لأن جوازها عرف بالشرع في البقر الأهلي دون الوحشي، والقياس ممتنع، وفي المتولد منهما تعتبر الأم، وكذا في حق الحل تعتبر الأم."

( كتاب الأضحية، مما تكون الأضحية،ج: 6 ، ص:7، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يجوز ‌في ‌الأضاحي شيء من الوحشي........ وإن ضحى بظبية وحشية أنست أو ببقرة وحشية أنست لم تجز."

( كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل اقامة الواجب ،ج:5،ص:297، ط: دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144412100025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں