بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

لکڑیاں وزن کرکے رکھنا، اور فروخت کرتے وقت دوبارہ وزن نہ کرنا


سوال

آج کل لکڑیاں کاٹ کر وزن کیا جاتا ہے،  پھر  اسی حساب سے رکھ دی  جاتی ہیں اور فروخت کرتے وقت اس کا وہ وزن بتایا جاتا ہے جو ابتداء میں تھا حالانکہ خشک ہونے کیوجہ سے اس کا وزن حقیقت میں کم ہوتا ہے لیکن متعاقدین اس پر رضامند ہوتے ہیں شرعا یہ معاملہ کیسا ہے؟

جواب

واضح  رہے کہ وزن کے حساب سے فروخت کرنے والی اشیاء کی خرید و فروخت جائز ہونے کی شرائط  میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ سودے کے وقت وزن کرکے فروخت کیا جائے، پس سودے کے وقت  اگر دوبارہ وزن نہیں کیا گیا تو شرعا ایسا سودا فاسد ہوتا ہے، لہذا  صورت مسئولہ میں  لکڑیاں جب وزن کے حساب سے فروخت كي جائیں ہو تو فروخت کرتے وقت خریدار کے سامنے دوبارہ وزن کرنا ضروری ہوگا، پہلے سے کیا ہوا وزن بتا کر قیمت وصول کرناجائز نہ ہوگا، اگرچہ عاقدین وزن دوبارہ نہ کرنے پر رضامند ہی کیوں نہ ہوں، اور جب سودا  وزن کے حساب سے نہ ہو بلکہ لکڑیوں کے ڈھیر کو لم سم   فروخت کیا جائے تو  اس صورت میں ڈھیر کا وزن بتانے کی ضرورت نہ ہوگی، البتہ لکڑیوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے اسے متعین کرنا ضروری ہوگا۔

سنن ابن ماجهمیں ہے:

" ٢٢٢٨ - حدثنا علي بن محمد قال: حدثنا وكيع، عن ابن أبي ليلى، عن أبي الزبير، عن جابر، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الطعام حتى يجري فيه الصاعان، صاع البائع، وصاع المشتري»"

( كتاب التجارات، باب النهي عن بيع الطعام قبل ما لم يقبض، ٢ / ٧٥٠، ط: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي)

ترجمہ: "حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کو بیچنے سے منع کیا ہے یہاں تک کہ بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں ماپ نہ کرلیں"۔

(یعنی: بیچنے والے اور خریدنے والے کے ماپ  کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والے نے خریدتے وقت اپنے صاع ( پیمانہ) سے اس کو ماپے، اور خریدنے والا جب خریدے تو اس وقت ماپ لے)

العناية شرح الهدايةمیں ہے:

" قال: (ومن ‌اشترى ‌مكيلًا مكايلةً أو موزونًا موازنة إلخ) إذا اشترى المكيل والموزون كالحنطة والشعير والسمن والحديد وأراد التصرف فذلك على أربعة أقسام: اشترى مكايلة وباع مكايلة، أو اشترى مجازفة وباع كذلك، أو اشترى مكايلة وباع مجازفة، أو بالعكس من ذلك. ففي الأول لم يجز للمشتري من المشتري الأول أن يبيعه حتى يعيد الكيل لنفسه كما كان الحكم في حق المشتري الأول كذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم "نهى عن بيع الطعام حتى يجري به صاعان صاع البائع، وصاع المشتري" ولأنه يحتمل أن يزيد على المشروط وذلك للبائع. والتصرف في مال الغير حرام فيجب التحرز عنه و هو بترك التصرف، وهذه العلة موجودة في الموزون فكان مثله. وفي الثاني لا يحتاج إلى الكيل لعدم الافتقار إلى تعيين المقدار. وفي الثالث لا يحتاج المشتري الثاني إلى كيل لأنه لما اشتراه مجازفة ملك جميع ما كان مشارا إليه فكان متصرفا في ملك نفسه. "

( كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل اشترى شيئا مما ينقل ويحول، ٦ / ٥١٥ - ٥١٦، ط: دار الفکر، لبنان)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائعمیں ہے:

"و لو كاله البائع، أو وزنه بحضرة المشتري كان ذلك كافيا، ولا يحتاج إلى إعادة الكيل؛ لأن المقصود يحصل بكيله مرة واحدة بحضرة المشتري، وما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه "نهى عن بيع الطعام حتى يجري فيه صاعان صاع البائع، وصاع المشتري" محمول على موضع مخصوص، وهو ما إذا ‌اشترى ‌مكيلًا مكايلة فاكتاله ثم باعه من غيره مكايلة لم يجز لهذا المشتري التصرف فيه حتى يكيله، و إن كان هو حاضرًا عند اكتيال بائعه فلايكتفى بذلك."

( كتاب البيوع، فصل فی حکم البیع، ٥ / ٢٤٥، ط: دار الکتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144402100988

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں