بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

لعبہ نام رکھنا کیسا ہے؟ اور اس کا معنی کیا ہے؟


سوال

لعبہ نام رکھنا کیسا ہے اور اس کا معنی کیا ہے؟ 

جواب

لَعِبَہ: یہ لَعِبَ یلعب کا مصدر ہے یا صفت کا صیغہ ہے۔   آخر میں( ھ) عربی سے منتقل کرنے اور علاقائی زبان کے مطابق  لڑکی کا نام رکھنے  کی وجہ سے بڑھا  دیا گیا ہے۔ اس کا معنی ہے:  کھیلنا، بیکار وبے مقصد کام کرنا، تفریح کرنا۔ دیکھئے قاموس الوحید: مادۃ لعب(ص:1474) ، ط۔ ادارہ اسلامیات لاہور)، صفت کا صیغہ ہونے کے اعتبار سے اس کا معنی ہوگا: کھلاڑی، کھیلنے والی۔

اور "لاعبہ" لاعب کی مؤنث ہے، اس   کا مطلب ہے "کھیلنے والی، مزاح وتفریح کرنے والی"، معنی کے اعتبار سے بچی کے نام لَعِبہ یا لاعبہ رکھنے کی گنجائش ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ  صحابیات رضوان اللہ تعالیٰ علیھن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ دیا جائے، کسی اچھے معنی والا دوسرا نام تلاش کیا جائے، اس کے لئے ہمارے ویب سائٹ پر اسلامی ناموں کے سیکشن سے سال کسی نام کا انتخاب کرسکتا ہے۔

لُعْبہ(لام کے پیش، اور عین کے سکون کے ساتھ): یہ جنت کے ایک حور  کا نام ہے۔ یہ نام نیک فالی کے طور پر رکھنا جائز ہوگا۔

معجم متن اللغۃ العربیۃ المعاصرہ میں ہے:

"لعِبَ/ لعِبَ بـ/ لعِبَ على/ لعِبَ في يَلعَب، لَعِبًا ولِعْبًا، فهو لاعب، والمفعول ملعوب (للمتعدِّي) • لعِب الشَّخصُ: عمِل عملاً لا ينفع، عكسه جَدَّ " {فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا} - {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إلاَّ اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ}: يستهزئون ويهزلون".

(معجم متن اللغة العربية المعاصرة: مادة ل ع ب (3/ 2014)، ط. عالم الكتب، الطبعة  الأولى:1429 هـ =2008 م)

تاج العروس میں ہے:

"(وهو) لاعب، و (لَعِب) ككتف: هذه الألفاظ استعملوها مصدرا، وصفة دالة على الفاعل كما هو ظاهر من كلامه، (ولعب) بكسرتين على ما يطرد في هذا النحو، (وألعبان) كعنفوان، مثل به سيبويه، وفسره السيرافي، (ولعبة) بضم فسكون، (و) لعبة (كهمزة) ؛ وفرق بينهما الصاغاني فقال: لُعَبة كهمَزة: كثير اللعب، ولُعبة، بالضم: يلعب به".

(تاج العروس: مادة لعب (4/ 209)، ط. دار الهداية)

صفۃ الجنۃ لابن ابی الدنیا میں ہے:

"عن ابن مسعود، قال:  إن في الجنة حوراء يقال لها: اللعبة، كل حور الجنان يعجبن بها يضربن بأيديهن على كتفها ويقلن " طوبى لك يا لعبةں لو يعلم الطالبون لك لجدّوا، بين عينيها مكتوب: من كان يبتغي أن يكون له مثلي فليعمل برضاء ربي عز وجل".

أخرجه ابن أبي الدنيا في باب صفة الحور العين (ص:212)، ط. مكتبة ابن تيمية، القاهرة- مصر، مكتبة العلم، جدة ، السعودية

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100511

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں