بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

لفظ آزاد سے طلاق کا حکم


سوال

ایک روز میں اور میرے شُوہر طلاق کے موضوع پہ گفتگو کر رہے تھے، اس دوران ہم دونوں میں سے کوئی بھی غصّے کی حالت میں نہیں تھا، میں اور وہ طلاق کے لئے راضی نہیں تھے، لیکن گھریلو مسائل سے تنگ آگئے تھے، یاد رہے کے ہماری رخصتی نہیں ہوئی تھی،صرف نکاح ہوا تھا،دوران گُفتگو میرے شہر سے یہ الفاظ ادا ہوئے کہ تمہیں آزاد کر رہا ہوں، طلاق کی گفتگو مُستقبل کی نِیّت سے ہورہی تھی اور یہ الفاظ بھی انہوں نے مُستقبل کی نیت سے بولے ، شوہر کا کہنا یہ ہے کہ ان کو نہیں معلوم تھا کہ لفظ آزاد سے طلاق واقع ہوتی ہے، ورنہ وہ یہ لفظ استعمال نہ کرتے اور نہ ان کی نیت تھی فی الوقت طلاق دینے کی، اس صورت میں کِیاحَکم ہے ؟ کیا بغیر نیت اور اس بات کے علم سے کہ لفظ آزاد سے طلاق ہوجائےگی ،طلاق واقع ہوئی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ لفظ " آزاد "اصل میں طلاق کے کنائی الفاظ میں سے تھا،بعد میں عام عرف میں اس کے  طلاق کےلیے ہی استعمال ہونے کی وجہ سےیہ طلاق کے معنی میں  صریح   بائن قرار دیاگیا،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ۔

 اوراگرسائلہ منکوحہ اوراس کے شوہرکےدرمیان خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی تھی (یعنی تنہائی میں اس طرح ملاقات نہیں ہوئی کہ اگر دونوں حقوقِ زوجیت ادا کرنا چاہتے تو کرسکتے) تو  صرف  ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے، اس کے بعد  سائلہ پر عدت گزارنا لازم نہیں ہے، لہذا طلاق کے بعد وہی شخص دوبارہ سائلہ سے نکاح کرنا چاہے تو از سر نو  نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرسکتا ہے، اور آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگااوراگر سائلہ کو نکاح کے بعد، رخصتی سے پہلے  لیکن خلوتِ صحیحہ کے بعد اس کے شوہر نے مذکورہ لفظ استعمال کیاہے تو اس کا حکم عام عورت کی طرح ہوگا جس سے اس کا شوہر ازدواجی تعلق قائم کرچکا ہو یعنی مذکورہ لفظ کے کہنے سےتو ایک ہی طلاق واقع ہوگی ، البتہ وہ ایک طلاق،  طلاق بائن ہوگی ، اس کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کے لیے تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہوگی،اور مذکورہ عورت پر عدت بھی لازم ہوگی،الفاظ طلاق استعمال کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے،کس لفظ سے طلاق واقع ہوتی اس بات کاعلم ہوناطلاق کے واقع ہونے کے لیےضروری نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي."

(كتاب الطلاق،باب الكنايات،299/3 ،ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة."

(كتاب الطلاق، با ب طلاق غیر المدخول بھا، ج:٣، ص:٢٨٦،  ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن ‌دخل ‌بها أو خلا بها خلوة صحيحة يلزمه كل المسمى ونفقة العدة وعليها العدة."

(كتاب النكاح، الباب الخامس في الأكفاء في النكاح، ج:١، ص:٢٩٢، ط:دار الفكر بيروت)

عنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"ويقع ‌طلاق كل زوج إذا كان عاقلا بالغا."

(كتاب الطلاق، ج:٣، ص:٤٨٧، ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502100926

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں