بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

لفظ اللہ کے بجائے خدا لکھنے کا حکم


سوال

میں نے آج ایک ترجمہ قرآن مجید کا پڑھا جوکہ مکتبہ قرآن سوسائٹی گجرات کی جانب سے چھاپا  گیا ہے اور حضرت مولانا فتح محمد جالندھری رحمہ اللہ کا ہے۔اس میں ہرجگہ پر لفظ اللہ کے بجائے خدا لکھا گیا ہے ۔کیا ایسا کرنا جائز عمل ہے یا ان سے درخواست کی جاسکتی ہے کہ جہاں لفظ اللہ لکھا گیا ہے وہاں ترجمہ میں بھی لفظ اللہ ہی لکھا جائے ؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر واقعۃ اس مذکورہ"ترجمہِ قرآن" میں اللہ تعالی کے نام کا عربی سے اردو ترجمہ کرتے ہوئے ، لفظ "خدا" استعمال کیا گیا ہے ، تو یہ استعمال شرعا درست ہے، دین اسلام میں لفظِ خدا کا استعمال ممنوع نہیں ہے ۔

فتاوی بینات  میں ہے:

لفظ ’’خدا‘‘ کا استعمال

محترم جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ  اللہ وبرکاتہ 

وجہ تحریر وہی ہے جو ہمیشہ لکھتے ہوئے ہوتی ہے۔ یعنی پھر ایک مسئلہ در پیش ہے۔ مسئلہ  کچھ ایسا سنگین تو نہیں لیکن صورتِ  حال کچھ ایسی ضرورہے۔

صورتحال یہ ہے کہ میرے ایک چچا انڈیا میں رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے ایک خط میں لفظ ’’خدا‘‘ کا استعمال کیا تھا(میرا خیال ہے کہ’’خُدا حافظ‘‘لکھا تھا) جس پر انہوں نے مجھے لکھا کہ لفظ’’خدا‘‘ کا استعمال غلط ہے۔ ’’اللہ‘‘ کے لئے لفظ ’’خدا‘‘ استعمال نہیں ہوسکتا۔ جس کے جواب میںمیں نے لکھا تھا کہ میرے خیال میں لفظ خدا لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس ہمارے ذہن میں اللہ کا تصور پختہ ہونا چاہئے۔ اور اگر لفظ ’’خدا‘‘ غلط ہے تو تاج کمپنی جس کے قرآن پاک تمام دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔کے ترجمے میں لفظ خدا استعمال نہیں ہوتا۔ میرے اس جواب پر انہوں نے ایک خط لکھا ہے جسکی نقل میں آپ کو اس خط کے ساتھ ہی روانہ کررہا ہوں۔آپ سے یہ گذارش ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ لفظِ  ’’خُدا‘‘ کا استعمال کیا غلط ہے؟سائل :  اعجاز الدین    

جواب:

اللہ تعالیٰ کے  لیے لفظ ’’خدا‘‘ کا استعمال جائز ہے، اور صدیوں سے اکابر دین اس کو استعمال کرتے آئے ہیں، اور کبھی کسی نے اس پر نکیر نہیں کی، اب کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں، جن کے ذہن پر عجمیت کا وہم سوار ہے۔ انہیں بالکل سیدھی سادی چیزوں میں ’’عجمی سازش‘‘ نظر آتی ہے، یہ ذہن غلام احمد پرویز اوراس کے ہمنوائوں نے پیدا کیا۔ اور بہت سے پڑھے لکھے شعوری وغیر شعوری طور پر اس کا شکار ہوگئے۔   

 عربی میں لفظ "رب"مالک اور صاحب کے معنیٰ میں ہے۔ اسی کا ترجمہ فارسی میں لفظ’’خدا‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ چنانچہ جس طرح لفظ ’’رب‘‘ کا اطلاق بغیر اضافت کے غیر اللہ پر نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح لفظ ’’خدا‘‘ جب بھی مطلق بولاجائے تو اس کا اطلاق صرف اللہ تعالیٰ پرہوتاہے۔ کسی دوسرے کو ’’خدا‘‘ کہنا جائز نہیں۔

’’ غیاث اللغات‘‘ میں ہے:

’’خدا بالضم بمعنی مالک و صاحب۔ چوں لفظ خدا مطلق باشدبر غیر ذاتِ باری تعالیٰ اطلاق نکند، مگر در صورتیکہ بچیزے مضاف شود، چوں کہ خدا، ودہ خدا‘‘۔

ٹھیک یہی مفہوم اور یہی استعمال عربی میں لفظ ’’رب‘‘کا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ’’اللہ‘‘ تو حق تعالیٰ شانہ کا ذاتی نام ہے۔ جس کا نہ کوئی ترجمہ ہوسکتاہے نہ کیا جاتاہے۔ دوسرے اسمائے الہٰیہ ’’صفاتی نام‘‘ ہیں، جن کا ترجمہ دوسری زبانوں میں ہوسکتاہے، اور ہوتا بھی ہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں میں سے کسی بابرکت نام کا ترجمہ غیر عربی میں کردیا جائے۔ اور اہل زبان اس کو استعمال کرنے لگیں، تو اس کے جائز نہ ہونے اور اس کے استعمال کے ممنوع ہونے کی آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اور جب لفظ ’’خدا‘‘صاحب اور مالک کے معنی میں ہے۔ اور لفظ’’رب‘‘ کے مفہوم کی ترجمانی کرتاہے تو آپ ہی بتائیے کہ اس میں مجوسیت یا عجمیت کا کیا دخل ہوا۔ کیا انگریزی میں لفظ ’’رب‘‘ کا کوئی ترجمہ نہیں کیا جائیگا؟ اور کیا اس ترجمہ کا استعمال یہودیت یا نصرانیت بن جائے گا؟ افسوس ہے کہ لوگ اپنی ناقص معلومات کے بل بوتے پر خود رائی میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اسلام کی پوری تاریخ سیاہ نظر آنے لگتی ہے۔ اور وہ چودہ صدیوں کے تمام اکابر کو گمراہ یا کم سے کم فریب خوردہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ یہی خودرائی انہیں جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھیں۔

(کتاب العقائد ،ص:75 ج:1 ط: مکتبہ بینات)

لہذا صورتِ  مسئولہ میں جب "خدا " کے لفظ کا استعمال درست ہے،تو  ادارہ والوں کو لفظ ِ خدا کے تبدیل کرنے کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101429

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں