بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

لیدر جیکٹ میں نماز پڑھنا


سوال

1-  کیا  لیدر  جیکٹ میں نماز پڑھ  سکتے  ہیں؟ کیوں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ حلال جانور  کی چمڑی  سے بنا ہے یا حرام جانور  کی  چمڑی  سے  ہے؟ 

2- کیا شلوار کو ٹخنوں سے اوپر کرنے کے لیے شلوار کو اوپر سے فولڈ کرنا مکروہِ  تحریمی ہے؟ اس حوالہ سے کچھ لوگ حدیث بھی پیش کرتے ہیں، اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

1- بصورتِ  مسئولہ   لیدر  کے جیکٹ    کے بارے میں جب تک  یقینی یا ظنِ غالب کے طور پر یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس میں اس خنزیر  کی کھال استعمال ہوئی ہے، صرف شبہ کی بنیاد پر اس کے استعمال کو حرام قرار نہیں دیا جاسکتا۔اور جب یقین سے معلوم ہوجائے یا ظنِ غالب ہو  کہ کوٹ وغیرہ خنزیر کے  چمڑے  سے  تیار شدہ  ہے تو اسے دھونے کے بعد بھی اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ خنزیر نجس العین ہے، اس کی کھال دھونے سے بھی پاک نہیں ہوگی۔

باقی احناف کے ہاں خنزیر کے علاوہ کسی بھی جانور کی کھال دباغت دینے سے پاک ہو جاتی ہے؛  اس لیے کہ اس میں موجود تمام تری اور ناپاک اجزاء دباغت کے عمل سے  ختم ہو جاتے ہیں؛ لہذا  اگر خنزیر کے علاوہ کسی غیر ماکول اللحم جانور (جس کا گوشت حلال نہیں ہے) کی کھال سے جیکٹ بنی ہوئی ہو تو وہ دباغت سے پاک ہوجاتی ہے؛ لہٰذا اس استعمال درست ہوگا۔

"وکل إهاب دبغ فقد طهر وجازت الصلاة فیه". (الهدایة: ۱/۴۰)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1 / 81):

"ولا بأس بلبس ثياب أهل الذمة والصلاة فيها، إلا الإزار والسراويل؛ فإنه تكره الصلاة فيهما وتجوز، (أما) الجواز؛ فلأن الأصل في الثياب هو الطهارة، فلاتثبت النجاسة بالشك؛ ولأن التوارث جار فيما بين المسلمين بالصلاة في الثياب المغنومة من الكفرة قبل الغسل.
وأما الكراهة في الإزار والسراويل فلقربهما من موضع الحدث - وعسى لايستنزهون من البول- فصار شبيه يد المستيقظ ومنقار الدجاجة المخلاة، وذكر في بعض المواضع في الكراهة خلافا، على قول أبي حنيفة ومحمد يكره، وعلى قول أبي يوسف لايكره". 

2۔شلوار کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنا  بقصدِ تکبر حرام، اور بلاقصدِ تکبر مکروہِ تحریمی (ناجائز)ہے، اگر غیر ارادی طور پر کبھی شلوار کا پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹک جائے تو  معاف ہے، لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا یا شلوار ہی ایسی بنانا کہ پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹکتا رہے یہ   جائز نہیں ہے، اور یہ متکبرین کی علامت ہے، اور جب یہ فعل ہی متکبرین کی علامت ہے  تو پھر یہ کہہ کر ٹخنوں کو چھپانا کہ نیت میں تکبر نہیں تھا ، شرعاً درست نہیں ہے، اور ٹخنوں کو ڈھانکنا نماز اور غیر نماز ہر حال میں ممنوع ہے، اور نماز میں اس کی حرمت مزید شدید ہوجاتی ہے،  لہذا ایسا لباس ہی نہ بنایا جائے جس میں ٹخنے ڈھکتے ہوں، فقہاء کرام نے ایسا لباس سلوانے کو مکروہ لکھا ہے جس میں مرد کے ٹخنے چھپ جاتے ہوں۔اور ایسا لباس ہونے کی صورت میں  نماز شروع کرنے سے پہلےشلوار یا پینٹ وغیرہ کو اوپر  سے موڑ لینا چاہیے، ورنہ کم ازکم نیچے سے موڑلے۔ اس طرح کرنے سے اس گناہ سے نجات مل جائے گی جو شلوار وغیرہ کو نماز کے اندر ایسے ہی چھوڑ دینے سے ہوتا۔

جو حضرات نماز میں شلوار یا پینٹ وغیرہ موڑنے سے منع کرتے ہیں اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں، لیکن دونوں کے سمجھنے میں غلط فہمی معلوم ہوتی ہے:

1۔ایک حدیث شریف میں نماز میں کپڑوں کے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن حدیث میں وارد ممانعت کا تعلق غیر ضروری طور پر یا مٹی سے بچنے کے لیے نماز کے دوران کپڑے سمیٹنے سے ہے۔ نماز سے پہلے  یا نماز کے دوران ایک حکم شرعی کو ادا کرنے کے لیے (یعنی ٹخنوں کو کھلا رکھنے کے لیے ) کپڑے سمیٹنا اور موڑنا اس حدیث کے مفہوم میں داخل نہیں ہے۔

2۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ایسے لباس میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے جو لباس مہذب اور شریفانہ مجالس میں نہ پہنا جاسکے، کیوں کہ نمازی اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوتاہے؛ اس لیے اس کا لباس مہذب وشائستہ اور صلحاء کا لباس ہونا چاہیے، جب کہ شلوار یا پینٹ کو نیچے کی جانب سے موڑنے کی صورت میں وضع و ہیئت غیر مہذب ہوجاتی ہے، لہٰذا پاؤں کی جانب سے موڑنے میں کراہت ہوگی۔

لیکن اس کی وضاحت گزشتہ سطور میں ہوچکی کہ فقہاء کرام نے ایسا لباس سلوانا ہی مکروہ قرار دیا ہے جس میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے ہوں، سو اولاً: لباس ہی شریعت کے مطابق سلوایا جائے، ثانیاً: شلوار یا پینٹ پاؤں کی جانب سے موڑنے میں لباس کی ہیئت تبدیل ہونے سے جو کراہت آتی ہے وہ کراہتِ تنزیہی ہے، جب کہ ٹخنے ڈھانپنا مکروہ تحریمی (ناجائز) ہے۔لہٰذا اگر کسی کی شلوار وغیرہ لمبی ہو تو  اسے اوپر یا نیچے کی جانب سے موڑ دینا چاہیے، کیوں کہ ٹخنے ڈھکنے کی کراہت تحریمی اور شدید ہے، جو حکم کے اعتبار سے ناجائز ہے، اس کےمقابلے میں شلوار یا پینٹ کو نیچے کی جانب سے فولڈ کرنے کی کراہت کم ہے، اس لیےشلوار یا پینٹ لمبی ہو تو نماز سے پہلے اسے فولڈ کرلینا چاہیے۔

بہرحال حکم یہی ہے کہ اگر کسی کی شلوار یا پینٹ لمبی ہو تو نماز سے پہلے ہی اسے موڑ لینا چاہیے، اور اگر پہلے نہ موڑ سکے یا نماز کے دوران وہ نیچے ہوجائے تو  نماز کے دوران شلوار وغیرہ کو ایک ہاتھ سے ایک ہی دفعہ موڑ لینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔  البتہ دورانِ نماز جھک کر پینٹ یا شلوار وغیرہ پائنتی کی جانب  سے موڑلینا عمل کثیر ہے، جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

"إن الله  تعالی لایقبل صلاة رجل مسبل."

(سنن أبي داؤد، کتاب اللباس، باب ماجاء في إسبال الإزار، النسخة الهندیة۲/۵۶۵، بیت الأفکار رقم:۴۰۸۶)

"عن أبي هریرة قال: قال رسول اﷲ صلی الله علیه وسلم : ما أسفل من الکعبین  من الإزار في النار."

(صحیح البخاري، کتاب الصلاة، باب ما أسفل من الکعبین ففي النار،۲/۸۶۱، رقم:۵۵۵۹)  

"عن أبي ذر عن النبي صلی الله  علیه وسلم قال: ثلاثة لایکلمهم الله یوم القیامة: المنان الذي لایعطي شیئاً إلامنّه، والمنفق سلعته بالحلف والفاجر، والمسبل إزاره."

(الصحیح لمسلم، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم  إسبال الإزار، النسخة الهندیة۱/۷۱، بیت الأفکار رقم:۱۰۶)

"وینبغي أن یکون الإزار فوق الکعبین ..." الخ

(الفتاوى الهندیة، کتاب الکراهية، الباب التاسع في اللبس، زکریا۵/۳۳۳)  

’’مرقاة المفا تیح‘‘ :

''و لایجوز الإسبال تحت الکعبین إن کان للخیلاء، وقد نص الشافعی علی أن التحریم مخصوص بالخیلاء ؛ لدلالة ظواهر الأحادیث علیها ، فإن کان للخیلاء فهو ممنوع منع تحریم'' .

(۸/۱۹۸، کتاب اللباس)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں