بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

لابثین فیھا کی جگہ لابیثین فیہ پڑھنے سے نماز کا حکم


سوال

نماز کے اندر سورہ عم میں"لابثين فيها"  کی جگہ" لابثين فيه" (مذکر کی ضمیر) کےساتھ پڑھ لیا جائے  تو کیا نماز ہوجاۓ گی؟

جواب

واضح رہے کہ  تلفظ کی تبدیلی یا الفاظ کی کمی بیشی کی وجہ سے معنیٰ تبدیل نہ ہو یا معنیٰ تو تبدیل ہو لیکن تغیر فاحش نہ ہو  تواس  سے نماز فاسد نہیں ہوتی،بلکہ  قرآن کریم  کی تلاوت میں اس طرح کی غلطی ہوجائے کہ معنی میں تغیر فاحش ہوجائے، یعنی: ایسے معنی پیدا ہوجائیں، جن کا اعتقاد کفر ہوتا ہے، اور غلط پڑھی گئی آیت یا جملے اور صحیح الفاظ کے درمیان وقفِ تام بھی نہ ہو (کہ مضمون کے انقطاع کی وجہ سے نماز کے فساد سے بچاجاسکے) اور نماز میں اس غلطی کی اصلاح بھی نہ کی جائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

صورت مسؤلہ میں غلطی سےاگر"لابثين فيها"  کی جگہ" لابثين فيه"(مذکر کی ضمیر)کے ساتھ  پڑھ لیا جائے توچونکہ اس قدر معنی ٰ میں تغیرفاحش نہیں  کہ نمازفاسدہوجائےلہذا  مذکورہ غلطی کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوگی ،بلکہ نماز درست ہوجائے گی۔

ردالمحتار میں ہے:

"وقال بعض المشايخ: لا تفسد لعموم البلوى، وهو قول أبي يوسف وإن لم يكن مثله في القرآن ولكن لم يتغير به المعنى نحو قيامين مكان قوامين فالخلاف على العكس فالمعتبر في عدم الفساد عند عدم تغير المعنى كثيرا وجود المثل في القرآن عنده والموافقة في المعنى عندهما."

(کتاب الصلوۃ ،فروع مشى المصلي مستقبل القبلة هل تفسد صلاته 1 /631،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها ذكر آية مكان آية) لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفًا تامًّا ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لاتفسد كما لو قرأ: {والعصر - إن الإنسان} [العصر: 1 - 2] ثم قال: {إن الأبرار لفي نعيم} [الانفطار: 13] ، أو قرأ: {والتين} [التين: 1] إلى قوله: {وهذا البلد الأمين} [التين: 3] ووقف، ثم قرأ: {لقد خلقنا الإنسان في كبد} [البلد: 4] أو قرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [البينة: 7] ووقف ثم قال: {أولئك هم شر البرية} [البينة: 6] لاتفسد. أما إذا لم يقف ووصل - إن لم يغير المعنى - نحو أن يقرأ: {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [الكهف: 107] فلهم الحسنى مكان قوله {كانت لهم جنات الفردوس نزلا} [الكهف: 107] لا تفسد. أما إذا غير المعنى بأن قرأ " إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم شر البرية إن الذين كفروا من أهل الكتاب " إلى قوله " خالدين فيها أولئك هم خير البرية " تفسد عند عامة علمائنا وهو الصحيح، هكذا في الخلاصة."

( كتاب الصلوة، الباب الرابع فى صفة الصلوة، الفصل الخامس فى زلة القارى،ج:1،ص:80، ط:مکتبة رشیدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101334

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں