بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

لاعلمی میں سود پر قرض لینے کا حکم


سوال

 میں نے ایک ایپ ڈانلوڈ کیا تھا ، جس  کا نام تھا "بروقت لون" اور مجھے پتا نہیں تھا کہ یہ سود کا معاملہ کرتا ہے،   پھر اس نے مجھ سے سارا ڈیٹیل مانگا ، اور  مجھے 1000 روپے قرضہ کے طور پر سینڈ کیا ،  اس کے ساتھ تقریباً 250 روپے سود لگایا، جب   مجھے پتا چلا کہ یہ سود کا معاملہ ہے تو فوراً اس کو واپس کیا ، اور ساتھ ہی سود  بھی دیا؛  تاکہ سود اور بڑھ نہ جائے،  اور میرا شناخت کارڈ بلاک نہ ہوجاۓ،  اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا  میں گناہ گار ہوگیا ہوں؟  اگر گنہگار ہو گیا تو اس کی معافی کس طرح مانگی جائے؟

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور سود دینا دونوں قرآن و حدیث کی قطعی نصوص سے حرام ہیں، حدیثِ مبارک میں  سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت کی  گئی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب  سائل کو معلوم نہیں تھا کہ یہ سود کا معاملہ کرنے والی ایپ ہے تو اللہ سے امید ہے کہ مذکورہ معاملہ میں مجبوراً سائل کو سود دینے پر گناہ نہیں ہوگا، البتہ پھر  بھی سائل  مذکورہ فعل پر سچے دل سے توبہ واستغفار کریں، اور ہر قسم کے شکوک وشبہات والے ایپ وغیرہ سے اجتناب کیا جائے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ."

(سورہ بقرۃ: آیت:275)

وفيه ايضاً:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَo."

(سورہ آل عمران، آیت: 130)

وفيه أيضاً:

"فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ."

(سورۃ المائدة، آیت:39)

سنن ابنِ ماجہ میں ہے:

"التائب من الذنب کمن لا ذنب له."

( کتاب الزھد، باب ذکرالتوبة، ص323، ط: قدیمی)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:‌‌

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إذا ‌أقرض ‌أحدكم ‌قرضا فأهدي إليه أو حمله على الدابة فلا يركبه ولا يقبلها إلا أن يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك» . ..(قبل ذلك) أي الإقراض لما ورد " كل قرض جر نفعا فهو ربا ". قال مالك: لا تقبل هدية المديون ما لم يكن مثلها قبل أو حدث موجب لها."

(كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الثالث، ج:6، ص:69، ط:مكتبة امداديه)

      الاشباہ والنظائر میں ہے:

    وفي القنية والبغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتهى)".

(الفن الاول، القاعدة الخامسة، ص:93، ط:قدیمی)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101969

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں